وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ڈیجیٹل ترقی شزا فاطمہ خواجہ سے ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک وفد نے ملاقات کی، جس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور جدید ٹیکنالوجی میں دوطرفہ تعاون اور اشتراک پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ملاقات کے دوران خاص طور پر ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تعاون سے پاکستان میں AI ریسرچ سینٹرز کے قیام کے منصوبے پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف شعبہ جات میں AI کے استعمال، تعلیم و تحقیق میں جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی فراہمی، اور تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے سے متعلق بھی گفتگو کی گئی۔وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی لاہور اور ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے درمیان سائنسی و تعلیمی اشتراک کو خوش آئند اور قابلِ تقلید قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ:"یہ اشتراک پاکستان میں ٹیکنالوجی کی تعلیم اور تحقیق کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو عالمی معیار کی AI ریسرچ اور ڈیجیٹل مہارتوں تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔"
انہوں نے بتایا کہ وزارت آئی ٹی نیشنل AI پالیسی، AI ہبز اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے ذریعے ملک میں مضبوط AI ایکو سسٹم کے قیام کے لیے سرگرم ہے۔شزا فاطمہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف کے "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے وژن کے مطابق درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جہاں بین الاقوامی تعاون کو قومی ترقی کا مرکز بنایا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان میں AI ریسرچ سینٹرز کا قیام اور ایریزونا یونیورسٹی جیسے اداروں سے اشتراک نہ صرف تعلیمی میدان میں انقلاب لا سکتا ہے بلکہ انڈسٹری، ہیلتھ، زراعت اور سیکیورٹی جیسے شعبوں میں بھی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے دروازے کھولے گا۔