پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کے صدر اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے عدالت کے سامنے رضاکارانہ طور پر پیش ہونے اور ضمانت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، انہوں نے اس سلسلے میں اپنے قریبی رفقاء اور قانونی ٹیم سے تفصیلی مشاورت مکمل کر لی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ حماد اظہر نے اپنی وکلا ٹیم کو فوری طور پر طلب کیا اور ممکنہ قانونی لائحہ عمل پر تفصیل سے غور کیا۔ انہوں نے یہ بھی طے کیا ہے کہ اگر انہیں عدالت سے ضمانت نہ ملی تو وہ گرفتاری دے کر جیل جانے کو ترجیح دیں گے۔حماد اظہر تقریباً دو سال سے روپوش تھے اور حال ہی میں اپنے والد، سینئر سیاستدان اور سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کی وفات پر منظرِ عام پر آئے۔ ان کی اچانک واپسی نے سیاسی حلقوں میں کئی نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حماد اظہر کا یہ فیصلہ نہ صرف ان کی ذاتی سیاسی حیثیت کے لیے اہم ہے بلکہ یہ پی ٹی آئی کی سیاسی حکمتِ عملی میں تبدیلی کا بھی عندیہ دیتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پارٹی کی سینئر قیادت آنے والے مہینوں میں مزید قانونی اور سیاسی چالوں کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے، اور حماد اظہر کا اقدام اس تبدیلی کا پہلا اشارہ ہو سکتا ہے۔