حماد اظہر سے فیملی اور وکلا کی ملاقات کی درخواست پر فیصلہ آئندہ کا لیا جائے گا

حماد اظہر سے فیملی اور وکلا کی ملاقات کی درخواست پر فیصلہ آئندہ کا لیا جائے گا

 لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما میاں حماد اظہر سے ان کے اہلخانہ اور وکلا کی ملاقات کی اجازت سے متعلق درخواست پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

 درخواست حماد اظہر کی والدہ عشرت اظہر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل ابوزر سلیمان خان نیازی نے مؤقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے فیملی اور وکلا کو ملاقات کی اجازت دینے کے بجائے درخواست پولیس سے رجوع کرنے کی ہدایت کے ساتھ نمٹا دی تھی۔سماعت کے دوران وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس اہلخانہ اور وکلا کو تھانے کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہی۔ ان کے مطابق حماد اظہر جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں اور اس ریمانڈ کو چیلنج کرنے کے لیے وکالت نامے پر ان کے دستخط ضروری ہیں، تاہم ملاقات نہ ہونے کے باعث قانونی کارروائی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حماد اظہر کو وکلا سے مشاورت کا موقع نہ ملنے سے ان کے قانونی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس کو ملاقات کے لیے درخواست دینے کے باوجود مطلوبہ رسائی فراہم نہیں کی گئی۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وکالت نامے پر دستخط کے لیے سپرنٹنڈنٹ جیل کو درخواست دی گئی تھی؟ اس پر وکیل نے بتایا کہ حماد اظہر جیل میں نہیں بلکہ پولیس کی تحویل میں ہیں، اس لیے جیل حکام سے رجوع کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حماد اظہر ایک سیاسی شخصیت ہیں اور ان سے روزانہ بڑی تعداد میں لوگ ملاقات کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق متعدد افراد کو ملاقات کی اجازت مل جاتی ہے جبکہ بعض افراد کو اجازت نہیں ملتی۔ سرکاری وکیل نے یہ بھی کہا کہ ریمانڈ کو چیلنج کرنے کے لیے وکالت نامے کے ساتھ بائیومیٹرک تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ پولیس کی تحویل میں موجود ملزمان کو بائیومیٹرک کی سہولت دستیاب نہیں۔جسٹس شہباز رضوی نے استفسار کیا کہ اگر پولیس کسٹڈی میں بائیومیٹرک نہیں ہوسکتی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ریمانڈ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا؟ سرکاری وکیل نے وضاحت کی کہ ان کا یہ مطلب نہیں بلکہ درخواست گزار پولیس سے رجوع کرسکتا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ سرکاری وکیل خود بیان دے چکے ہیں کہ پولیس کی تحویل میں بائیومیٹرک نہیں ہوسکتی، اس صورتحال میں درخواست گزار کا مؤقف بادی النظر میں درست معلوم ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ حماد اظہر کو رواں ماہ ملتان سے گرفتار کرکے لاہور پولیس کے حوالے کیا گیا تھا اور وہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔ ان کی والدہ اور اہلیہ اس سے قبل بھی ملاقات کی اجازت کے لیے انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کرچکی ہیں۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مزید مؤقف پیش کرنے کی کوشش کی تاہم عدالت نے انہیں تحمل کا مظاہرہ کرنے اور خاموش رہنے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے حماد اظہر سے ان کے اہلخانہ اور وکلا کی ملاقات سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جو بعد میں سنایا جائے گا۔