ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ملزم کے خلاف چالان مکمل کر کے پراسیکیوشن برانچ میں جمع کرا دیا ہے۔
جلد ہی کیس کا باقاعدہ ٹرائل عدالت میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
پراسیکیوشن سکروٹنی
ذرائع کے مطابق چالان کو قانونی طور پر دو رکنی پراسیکیوشن ٹیم جانچے گی، جس میں راجہ نوید کیانی اور محمد عدنان شامل ہیں۔یہ ٹیم چالان کی قانونی جانچ پڑتال (سکروٹنی) کرے گی، جس کے بعد عدالت میں باقاعدہ جمع کرایا جائے گا۔
ملزم کا اعترافی بیان
چالان میں ملزم عمر حیات کو ثنا یوسف کا قاتل قرار دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے روبرو اعترافی بیان بھی دیا ہے، جو چالان کا حصہ بنایا گیا ہے۔
گواہان کی فہرست
پولیس چالان میں ثنا یوسف کی والدہ، پھوپھو اور دیگر اہم گواہوں کو شامل کیا گیا ہے، جو عدالت میں ملزم کے خلاف بیان ریکارڈ کروائیں گے۔
آئندہ مراحل
چالان کی منظوری کے بعد کیس متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہوگا۔ عدالت ملزم کے خلاف پیش کیے گئے شواہد، اعترافی بیان اور گواہان کے بیانات کی روشنی میں فیصلہ دے گی۔