مالٹا کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان، 20 جون کو باضابطہ اقدام متوقع

مالٹا کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان، 20 جون کو باضابطہ اقدام متوقع

ویب ڈیسک: یورپی ملک مالٹا نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی مظالم بدترین صورت اختیار کر چکے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مالٹا کے وزیراعظم رابرٹ ابیلا نے کہا ہے کہ:"ہم انسانیت سوز المیے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے، فلسطین کو ریاست تسلیم کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔"انہوں نے کہا کہ ان کا ملک 20 جون کو اقوام متحدہ کی ایک اہم کانفرنس کے بعد فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا۔ اس اقدام کو عالمی سطح پر انصاف اور امن کے قیام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں فلسطین کی حمایت
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے اب تک 147 ممالک فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔مالٹا نے اپریل 2023 میں بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کی مکمل رکنیت کے حق میں ووٹ دیا تھا، تاہم اب تک باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ 20 جون کا اعلان اس حمایت کی عملی توثیق ہے۔

غزہ پر اسرائیلی حملے، انسانی بحران سنگین
دوسری جانب اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق حالیہ حملوں میں صحافی حسن ماجدی اور ان کے اہل خانہ سمیت 38 فلسطینی شہید جبکہ 204 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ان حملوں میں پناہ گزین کیمپ اور خیمہ بستیاں بھی نشانہ بنی ہیں، جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے شامل تھے۔اب تک شہادتوں کی مجموعی تعداد 54 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ غزہ کا 70 فیصد علاقہ اسرائیلی قبضے میں آ چکا ہے۔ اس صورتحال کے باعث لاکھوں فلسطینی باشندے بے گھر اور بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔

مالٹا کا قدم – دیگر ممالک کے لیے مثال
مالٹا کے اس فیصلے کو عالمی سطح پر ایک اہم اخلاقی اور سیاسی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے دیگر یورپی ممالک پر بھی زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں اور اسرائیلی مظالم کے خلاف واضح مؤقف اختیار کریں۔ماہرین کے مطابق مالٹا کا یہ اعلان فلسطین کے حق میں بین الاقوامی حمایت کو مزید تقویت دے سکتا ہے اور یورپی یونین میں فلسطین سے متعلق پالیسیوں پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو سکتا ہے۔