غزہ میں سیز فائر نہ ہوسکا، مغربی کنارے اسرائیل کی فائرنگ سے 14فلسطینی شہید

درجنوں فلسطینیوں کو گرفتارکرلیاگیا، کئی گھروں کو آگ لگا دی گئی، 15ماہ اسرائیل سے جنگ کے بعد حماس نے پھر سے غزہ کا کنٹرول سنبھال لیا
 غزہ(آئی این پی ) غزہ میں معاہدے کے باوجود سیز فائر نہ ہوسکا، مغربی کنارے میں فائرنگ سے 14فلسطینی شہید جبکہ 5زخمی ہوگئے۔اسرائیلی حملوں سے مغربی کنارے میں جنین کیمپ تباہ ہوگیا، درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا گیا، جنین میں جبری انخلا کے بعد ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوگئے، درجنوں نئی چوکیاں قائم کردی گئیں، صیہونی فورسز نے مغربی کنارے میں کئی گھروں کو آگ لگا دی۔جنین میں حماس مجاہدین اور اسرائیلی فوج میں جھڑپیں جاری ہیں، القدس بریگیڈز کے مطابق حماس مجاہدین نے اسرائیلی فوجی گاڑی پر حملہ کر دیا جس سے متعدد صیہونی فوجی حملے میں شدید زخمی ہوگئے۔جنوبی غزہ اور رفح میں اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں پر فائرنگ سے 24گھنٹوں میں مزید 120مظلوم فلسطینیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، شہدا ء کی مجموعی تعداد 47 ہزار 283 ہوگئی۔ اقوام متحدہ کی جانب سے غزہ کے ہسپتالوں میں بحالی کا کام شروع کر دیا۔دوسری جانب ایک امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ 15ماہ اسرائیل سے جنگ کے بعد فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے پھر سے غزہ کا کنٹرول سنبھال لیا ۔نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ سیز فائر شروع ہوتے ہی حماس کے مسلح جنگجوئوں کا سڑکوں پر آنا یہ پیغام تھا کہ ہزاروں ارکان کی شہادت، اسلحہ اور سرنگوں کی تباہی کے باوجود حماس کو ختم نہ کیا جا سکا اور اب بھی وہ غزہ کی مضبوط ترین جماعت ہے۔امریکی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو حماس کے خاتمے کے دعوے کرتے رہے لیکن غزہ کے لیے کوئی متبادل نہ پیش کر سکے۔