راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ جیل میں پارٹی بانی عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کئی اہم باتوں کا انکشاف کیا۔
اہم نکات:
پارٹی رہنماؤں کو اتحاد کی ہدایت:
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف بات چیت نہ کریں۔ انہوں نے پارٹی کے اندر اتحاد برقرار رکھنے پر زور دیا۔
5 وکلاء کی ملاقات، لیکن علیمہ خان کو اجازت نہیں:
انہوں نے بتایا کہ 5 وکلاء (بیرسٹر گوہر خود، بیرسٹر سلمان صفدر، فیصل چوہدری، علی عمران اور رائے سلمان) کو عمران خان سے ملنے کی اجازت دی گئی، لیکن عمران خان کی اہلیہ علیمہ خان کو اب تک ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔
کسی کو مذاکرات کا اختیار نہیں:
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ عمران خان نے کسی کو بھی حکومت یا دیگر فریقین کے ساتھ مذاکرات کرنے کا اختیار نہیں دیا۔
علی امین گنڈاپور کی ملاقات پر زور:
انہوں نے کہا کہ جب تک پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کو عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی، منرل بل (قومی اسمبلی میں پیش کردہ بل) پر کوئی پیشرفت نہیں ہوگی۔
افغان مہاجرین اور افغانستان پر تشویش:
عمران خان نے افغان مہاجرین اور افغانستان کے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اپوزیشن اتحاد کی تشکیل:
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے کی طرف پیشرفت کرنے کی ہدایت کی ہے۔
تنقید اور آئندہ اقدامات:
بیرسٹر گوہر نے فیملی ممبران کو ملاقات نہ دینے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ عدالت میں اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی اور پارٹی کے اتحاد کے لیے مزید قانونی اور سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔