وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے علی امین کی سیکیورٹی واپس لینے پر اپنا موقف بیان کر دیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے علی امین کی سیکیورٹی واپس لینے پر اپنا موقف بیان کر دیا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے علی امین گنڈا پور سے سیکیورٹی واپس لینے کے معاملے پر اپنا موقف دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ سیکیورٹی واپس لینے کی خبریں مکمل طور پر غلط ہیں اور اس طرح کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی۔یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے کیونکہ گزشتہ روز، سابق وزیر اعلیٰ اور رکن قومی اسمبلی علی امین گنڈا پور نے میڈیا کے ذریعے بتایا تھا کہ ان کی سیکیورٹی چیف سیکیورٹی افسر کے حکم سے واپس لے لی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے پاس 14 افراد کا اسٹاف تھا، جن میں ایک جیمر، دو ڈبل کیبن اور ڈرائیور شامل تھے۔ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ یہ سیکیورٹی الرٹس، جو کہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر انہیں موصول ہوئے تھے، سابق وزیراعلیٰ اور حکومت کی مؤثر پالیسی کے نتیجے میں ملے ہیں۔  اس صورت حال پر، سہیل آفریدی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ مکمل طور پر جھوٹ ہے کہ کسی سے سیکیورٹی واپس لی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اتنے فارغ نہیں ہیں کہ سیکیورٹی واپس لینے جیسی کارروائی کریں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان کی ترجیح سابق پی ٹی آئی رہنما کی رہائی ہے اور اگر کوئی نان ایشو کو ایشو بنا کر خبروں میں رہنا چاہتا ہے تو وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔  
دریں اثنا، خیبر پختونخوا پولیس نے بھی اس معاملے میں وضاحت فراہم کی ہے کہ علی امین گنڈا پور کے پاس اس وقت 77 پولیس اہلکار موجود ہیں۔ ان کی رہائش گاہ پر پولیس و سیکیورٹی اداروں کے اہلکار تعینات ہیں، جن میں 58 پولیس اہلکار پولیس سیکیورٹی ونگ کے، 12 ایف آر پی پولیس کے، اور 7 دیگر پولیس اہلکار ڈیرہ اسماعیل خان پولیس سے تعینات ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور کی سیکیورٹی میں کمی نہیں کی گئی اور ان کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری ہیں۔  

اس طرح، خیبر پختونخوا حکومت اور پولیس کا مؤقف ہے کہ علی امین گنڈا پور سے سیکیورٹی واپس لینے کی بات درست نہیں ہے اور ان کی سیکیورٹی بہت فعال اور محفوظ ہے۔