حکومت کا سستے رمضان بازار نہ لگانے کا فیصلہ

حکومت کا سستے رمضان بازار نہ لگانے کا فیصلہ

لاہور:حکومت نے رواں سال ماڈل بازاروں میں فیئر پرائس شاپس نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے، اور شہریوں کو صرف "نگہبان پیکج" کے ذریعے ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق، ہر سال ماڈل بازاروں میں فیئر پرائس سٹالز قائم کیے جاتے تھے، جہاں شہریوں کو 30 سے 40 فیصد تک رعایت پر اشیائے خورونوش فراہم کی جاتی تھیں، لیکن اس سال حکومت نے یہ سہولت ختم کر دی ہے۔

ماڈل بازاروں میں متبادل اقدامات
حکومت نے ماڈل بازاروں میں محدود پیمانے پر چند سٹالز پر اشیائے خورونوش آڑھتی ریٹس پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت:

مارکیٹ کمیٹی منڈی سے آڑھتی ریٹ پر اشیاء خرید کر ماڈل بازاروں کو فراہم کرے گی۔
بیسن اور دال چنا ہول سیل ریٹ پر دستیاب ہوں گے۔
چینی 130 روپے فی کلو میں فراہم کی جائے گی، اور ایک فرد زیادہ سے زیادہ 5 کلو خرید سکے گا۔
آٹا 800 روپے فی تھیلا دستیاب ہوگا، جس کی فروخت کے لیے فلور مل کا نمائندہ تعینات کیا جائے گا۔
چکن مقررہ ریٹ سے 15 روپے فی کلو سستا ہوگا۔
انڈے مقررہ ریٹ سے 6 روپے فی درجن کم قیمت پر دستیاب ہوں گے۔

عوامی ردعمل اور متوقع اثرات
حکومت کے اس فیصلے پر عوام کی طرف سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ ماڈل بازاروں میں ہر سال دی جانے والی سبسڈی کم آمدنی والے شہریوں کے لیے بڑا ریلیف ہوتی تھی، لیکن اس سال اسے ختم کرنے سے مہنگائی کے ستائے عوام پر مزید بوجھ پڑ سکتا ہے۔ تاہم، حکومت کا موقف ہے کہ نگہبان پیکج کے ذریعے اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور مارکیٹ کمیٹیوں کے ذریعے آڑھتی نرخوں پر اشیاء کی فروخت سے عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔

ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کے مطابق، فیئر پرائس شاپس کا خاتمہ اور محدود تعداد میں سبسڈی سٹالز کی فراہمی مہنگائی کے دباؤ کو مکمل طور پر کم نہیں کر سکے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو فیئر پرائس سٹالز کے متبادل کے طور پر مزید موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جا سکے۔