لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں شہری کی خودسوزی کی کوشش

لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں شہری کی خودسوزی کی کوشش

لاہور ہائیکورٹ کے سینیئر جج کی عدالت سے ایک شخص باہر آیا اور احاطہ ہائیکورٹ میں خود کو آگ لگا لی۔

 شہری آگ لگانے کے بعد بار بار کہتا رہا کہ اسے انصاف نہیں ملا اور وہ صرف انصاف چاہتا ہے۔ڈیوٹی پر موجود پولیس انسپکٹر عظمت بخاری، کانسٹیبل عقیل اور دیگر اہلکاروں نے فوری طور پر آگ بجھانے کے لیے پانی پھینکا اور چادر ڈال کر شعلے کم کرنے کی کوشش کی۔ جھلسے ہوئے شخص کو بچانے کے لیے آگ بجھانے والے آلات کا استعمال بھی کیا گیا، جبکہ ریسکیو اہلکار فوری طور پر طبی امداد کے لیے موقع پر پہنچ گئے۔خودسوزی کی کوشش کرنے والے شخص کی شناخت آصف جاوید کے نام سے ہوئی ہے، جو نیسلے کمپنی کے کبیروالا پلانٹ میں ملازم تھا۔ اطلاعات کے مطابق، نیسلے نے آصف سمیت کئی ملازمین کو یونین سرگرمیوں میں حصہ لینے پر نوکری سے نکال دیا تھا۔

لیبر کورٹ نے ان ملازمین کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، تاہم نیسلے کمپنی نے اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔آصف کا کیس گزشتہ پانچ سالوں سے ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، مگر بروقت فیصلہ نہ ہونے کے باعث وہ شدید مایوسی اور دلبرداشتگی کا شکار تھا، جس کے نتیجے میں اس نے انتہائی قدم اٹھایا۔واقعے کے بعد ہائیکورٹ انتظامیہ اور پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔