لاہور:ایک شہری منیر احمد نے اپنے وکیل اظہر صدیق کے توسط سے لاہور ہائیکورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے دفعہ 144 کے ممکنہ نفاذ کے خلاف اعتراضات اٹھائے ہیں۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت دفعہ 144 کا نفاذ سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے کر رہی ہے اور اس کے ذریعے سیاسی اجتماعات کو روکا جا رہا ہے۔
درخواست میں اٹھائے گئے نکات:
درخواست گزار نے اپنی درخواست میں یہ نشاندہی کی ہے کہ حکومت بار بار دفعہ 144 کا نفاذ کر رہی ہے تاکہ سیاسی اجتماعات کو روکا جا سکے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس دفعہ کو جواز بنا کر سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔درخواست میں یہ نکتہ بھی اُٹھایا گیا ہے کہ آئین کے تحت ہر شہری کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے، اور اس حق کو دفعہ 144 کے ذریعے محدود کیا جا رہا ہے۔شہری کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ عوامی سطح پر احتجاج یا سیاسی اجتماع کی آزادی کو کچلنے کے لیے کیا جا رہا ہے، جو کہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست کی استدعا:
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو دفعہ 144 کے نفاذ سے روکا جائے اور اس طرح کے اقدامات جو سیاسی سرگرمیوں اور اجتماع کی آزادی کو محدود کرتے ہیں، ان کو عدالت کی طرف سے غیر قانونی قرار دیا جائے۔
قانونی اور آئینی تناظر:
دفعہ 144 کے تحت حکومت کو مخصوص حالات میں اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، لیکن درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں سیاسی حقوق کی پامالی اور شہریوں کی آزادی کے خلاف ہیں۔ درخواست میں آئین کے تحت دیے گئے شہری حقوق کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ کیس لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے اور عدالت کی جانب سے اس پر فیصلہ آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔