روزویلٹ ہوٹل پاکستانی ملکیت کیسے بنا؟ امریکا پر معاہدے کے لیے کس نے دباؤ ڈالا؟

روزویلٹ ہوٹل پاکستانی ملکیت کیسے بنا؟ امریکا پر معاہدے کے لیے کس نے دباؤ ڈالا؟

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نیویارک کے تاریخی روزویلٹ ہوٹل کا افتتاح 23 ستمبر 1924ء کو ہوا تھا، جس کا نام امریکی صدر تھیوڈر روزویلٹ کے نام پر رکھا گیا۔

 اس ہوٹل کی تعمیر پر اس وقت 1 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کی لاگت آئی تھی۔یہ ہوٹل نیویارک کے مرکزی علاقے مینہٹن میں 45ویں اور 46ویں اسٹریٹ کے درمیان واقع ہے، جو گرینڈ سینٹرل اسٹیشن سے ایک بلاک دور ہے اور ایک خفیہ زیرِ زمین راستے کے ذریعے اسٹیشن سے بھی منسلک ہے۔ یہاں سے ٹائمز اسکوائر اور براڈوے صرف 5 منٹ کی مسافت پر ہیں۔

پاکستانی ملکیت میں روزویلٹ ہوٹل کا سفر
1979ء میں پاکستان کی قومی ایئر لائن (PIA) نے سعودی شہزادے فیصل بن خالد بن عبدالعزیز السعود کے ساتھ مل کر یہ ہوٹل لیز پر حاصل کیا، جس کی شرائط میں ایک شق یہ بھی شامل تھی کہ 20 سال بعد پاکستان ہوٹل خرید سکتا ہے۔

1999ء میں پی آئی اے نے اس شق کا استعمال کرتے ہوئے 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز میں ہوٹل خرید لیا۔ تاہم، اس خریداری سے پہلے پی آئی اے کو ہوٹل کے سابقہ مالک پال ملسٹین کے ساتھ ایک طویل قانونی جنگ لڑنا پڑی، جو اس کی قیمت کو زیادہ قرار دے رہے تھے۔

2005ء میں قومی ایئر لائن نے سعودی پرنس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس میں روزویلٹ ہوٹل کے 99 فیصد شیئرز 36.4 ملین ڈالر میں خرید لیے، جبکہ سعودی شہزادے کے پاس صرف 1 فیصد شیئرز باقی رہ گئے۔

2007ء میں ہوٹل کی تزئین و آرائش اور مرمت کے لیے 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز خرچ کیے گئے۔ بعد ازاں، پی آئی اے نے مالی خسارے کے باعث ہوٹل کو فروخت کرنے پر غور کیا لیکن بعد میں یہ فیصلہ ترک کر دیا گیا۔

ہوٹل کی بندش اور پناہ گزینوں کے لیے معاہدہ
2020ء میں کورونا وبا کے دوران پاکستانی حکومت نے ہوٹل کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت کے وزیرِ ہوابازی خواجہ سعد رفیق کے مطابق ہوٹل بند ہونے کے بعد اس کی مینٹیننس پر پاکستان کو بھاری اخراجات اٹھانے پڑ رہے تھے۔

2023ء میں جب نیویارک میں ہزاروں تارکینِ وطن پناہ کے انتظار میں فٹ پاتھوں پر بیٹھے نظر آ رہے تھے، تب نیویارک سٹی گورنمنٹ اور ہوٹل یونین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جسے پاکستان کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے مئی 2023ء میں منظور کیا۔ اس معاہدے کے تحت 3 سال کے لیے ہوٹل کے 1025 کمرے نیویارک حکومت کو لیز پر دے دیے گئے۔

امریکی حکومت کی جانب سے معاہدے کی منسوخی
خواجہ سعد رفیق نے کہا تھا کہ امریکی حکومت نے خود نیویارک میں پاکستانی ہوٹل کے ساتھ معاہدے میں دلچسپی ظاہر کی، اور یہ ایک اچھی بزنس ڈیل تھی، کیونکہ نیویارک حکومت نے تارکینِ وطن کے لیے 80 سے زائد ہوٹل کرائے پر لیے تھے، جن میں روزویلٹ ہوٹل بھی شامل تھا۔تاہم، حالیہ دنوں میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور بھارتی نژاد سیاستدان ویویک راماسوامی نے اس معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے بعد امریکی حکومت نے پاکستانی حکومت سے کیا گیا معاہدہ منسوخ کر دیا۔اب نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز نے اعلان کیا ہے کہ مینہٹن کے اس تاریخی روزویلٹ ہوٹل کو جون 2025ء سے پناہ گزینوں کے لیے بند کر دیا جائے گا۔