امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے لاطینی امریکی ممالک پر مشتمل امریکنز کاؤنٹر کارٹیلیشن کے رکن ممالک سے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سے علیحدگی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے پاناما میں ایک خطاب کے دوران آئی سی سی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ عدالت قومی خودمختاری کو نقصان پہنچا رہی ہے اور حکومتوں و عدالتوں کے اختیارات میں دخل اندازی کر رہی ہے۔ہیگسٹھ نے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ آئی سی سی کی جانب سے اپنے داخلی امور میں مداخلت کو مسترد کریں اور عدالت سے دستبردار ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک کو اپنی خودمختاری، قومی دفاع اور فوج کے استعمال کے فیصلے خود کرنے کا اختیار برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومتیں غیر منتخب بین الاقوامی بیوروکریٹس کے بجائے اپنے عوام اور آئین کے سامنے جوابدہ ہونی چاہئیں۔
واضح رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے، جس کے بعد سے واشنگٹن نے آئی سی سی پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔