پروفیسر حکیم سید عمران فیاض
آجکل پورے پنجاب میں تجاوزات کنندگان اور قبضہ گروپ مافیا کے خلاف بلاتفریق آپریشن کلین اپ کیا جارھا ھے۔ جو کہ واقعی ایک خوش آئنداقدام ھے۔ لیکن یہاں سوچنے کی بات یہ ھے جن مافیاز نے کئی سالوں سے اپنی دکانوں۔ گھروں۔ شادی ھالوں۔ پلازوں۔ مارکیٹوں اور گلی محلوں میں اپنے اردگرد کی جگہوں پر قبضہ کیا اس کے پیچھے کون سرپرست یا سہولت کار تھے۔ بازاروں میں ناجائء سٹال کیسے لگوائے جاتے رھے۔ اس حوالے سے پنجاب کی دلیر وزیراعلی مریم نواز کا یہ بہادرانہ اقدام واقعی لائق تحسین ھے۔ ذرائع کے مطابق کئی مقامات پر آپریشن کرنے والی ٹیموں کو شدید مذاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا جبکہ کئی مقامات پر پختہ تعمیرات 15 سے 25 سال قبل اور کئی مقامات پر اس سے بھی پرانی تھیں۔ باعث حیرت بات یہ ھے آج تک ان کے خلاف اس طرح کی کاروائیاں پہلے کیوں نہ کی گیئں۔ حالانکہ ان کی حکومت تو پہلے بھی کئی بار رھی۔ قانون پر علدرآمد نہ ھونے کی وجہ سے آپریشن کے کچھ دنوں بعد پھر قبضہ مافیا بے لگام سڑکوں پر ریڑھیوں کا قبضہ , سروس روڈز پر سٹالوں کا قبضہ ۔سب سے اھم بات وطن عزیز میں شفارش , رشوت , کرپشن جیسے ناسور کے خلاف بھی سخت سے سخت اقدامات اور کاروائی بھی ضرور ھونی چاھیے۔قبضہ مافیا جیسے عفریب کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف بھی کاروائی موجودہ وقت کی اھم ضرورت ھے۔ اسکے ساتھ وطن عزیز کے مختلف محکموں میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف بھی سخت ترین اقدامات کرنے ھوں گے۔ وزیراعلی پنجاب سے گذارش ھے کہ وطن عزیز میں اتائیت جیسے عفریب کے خلاف بھی اقدام اٹھائیں۔ 2010ء میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ جس کا کام پنجاب سے اتائیت کا خاتمہ کرنا اور شعبہ صحت کی قدر و منزلت کو بحال کرنا۔ یہ بات درست ہے کہ اس نے اپنے قیام سے لے کر اب تک ہزاروں کی تعداد میں اتائیوں کی دکانوں کو چیک کیا اور بڑی تعداد میں ان کو جرمانے اور دکانوں کو سیل کیا۔ لیکن ذرائع کے مطابق یہ بھی حقیقت ہے کہ اکثر نے کالی بھیڑوں کی ملی بھگت سے اپنی دکانیں یا تو از خود ڈی سیل کر لیں۔ یا اپنی شاپ کا نام بدل کر قریب ہی نئی شاپ نئے نام سے کھول لی .لیکن ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی ندارد پنجاب ھیلتھ کیئر کمیشن خاموش تماشائی بنا ھوا ھے اور اوپر سب اچھا کی رپورٹ پہنچائی جا رھی ھے۔ انڈرمیٹرک لوگ ھیلتھ کئیر پرووائیڈر بنے ھوئے ھیں اور دیگر پریکٹس کے ساتھ جراحی و حجامہ بھی کر رھے ھیں ۔ وزیراعظم پاکستان۔ سپریم کورٹ آف پاکستان۔ وفاقی وزیر صحت۔
وزیراعلی پنجاب۔ وزیر صحت پنجاب۔ چیئرمین پنجاب ھیلتھ کیئر کمیشن سے اپیل ھے کہ وہ اتائیوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کریں۔
عوام کو حکومتی ریلیف ملنا تو درکنار انکی روزمرہ زندگی مزید اجیرن بن چکی ھے۔ بعض ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کی بیحسی کی بدولت غریب عوام بدترین مشکلات کا شکار ھو چکے ھیں۔ بعض دوکاندار و تاجر حضرات منہ مانگے ریٹ پر اشیائے خوردونوش فروخت کررھے ھیں۔ حکومتی نرخ نامہ کو انھوں نے ھوا میں اڑا کر رکھ دیا ھے۔بعض دوکاندار حضرات روز مرہ ضروریات زندگی کی اشیا کئی گنا زیادہ دام پر فروخت کررھے ھیں۔ سبزیاں عوام کی قوت خرید سے بڑھ کر عوام کو مل رھی ھیں۔ اسی طرح حکومتی آٹا بھی عوام کی پہنچ سے دور ھے جبکہ جہاں مل رھا ھے وھاں عوام کیلئے اسے لینا جوئے شیر لانے کے مترادف ھوچکا ھے۔جبکہ بعض دوکاندار اور تاجر حضرات آٹا وہ بھی انتہائی ناقص اپنے من مرضی نرخ پر بیچ رھے ھیں اسکے علاوہ بیسن۔ چینی۔ گڑ۔ شکر۔ دھی۔ دودھ۔ مرغی۔ مٹن۔ بیف۔ گھی۔ ادویات۔ مصالحہ جات بھی سستے داموں عوام کو دستیاب نہیں۔ بیکری آئیٹم کب عوام کی پہنچ میں ھوں گی۔ عوام کو کوئی بھی چیز حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر دستیاب نہیں ھے۔ اس کا ذمہ دار کون ھے۔
وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب متحرمہ مریم نواز صاحبہ اور انکی کابینہ کیلئے یہ ایک مشکل ٹاسک ضرور ھے لیکن ناممکن نہیں۔ عوام کو سستے داموں اور معیاری اشیائے خوردونوش انکی دھلیز پر فراھم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ذمہ داری ھے۔ باقی دیگر کاموں اور منصوبوں کی بجائے عوام کو روزگار۔ تعلیم۔ سستے داموں خوراک فراھم کرنا اولین ترجیح ھونی چاھیے۔ موجودہ حالات جس ڈگر کو جا رھے ھیں عوام خودکشی جیسے برے فعل کی طرف بڑھ رھے ھیں۔ جس کے اکا دکا واقعات سوشل میڈیا کی زینت بنتے رھتے ھیں۔جو کہ ایک انتہا?ی پریشان کن امر ھے۔
حکومت کو چاھیے کہ ایسی عوامی ھیلپ لائن کا اجرا بھی کیا جائے جس پر رابطہ کرنے سے پریشان حال و سفید پوش افراد کی امداد عزت نفس کے ساتھ ممکن ھوسکے۔
ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس حضرات عوام کو ریلیف فراھم کرنے کیلئے ایسے ناجائز منافع خور و ذخیرہ اندوز دوکاندار و تاجر حضرات کے خلاف سخت سے سخت اقدامات کریں اور ان سے آھنی ھاتھوں نمٹیں۔ ساتھ ھی تمام سبزی و فروٹ منڈی اور گوشت و چکن مارکیٹوں پر بھی اپنا چیک اینڈ بیلنس رکھیں کیونکہ یہ امر قابل ذکر ھے کہ عوام کو ان منڈیوں میں بھی حکومتی نرخوں پر بھی ضروریات زندگی کی اشیا دستیاب نہیں ھوتیں تو عوام کو عام دوکانوں پر کیسے دستیاب ھوں گی۔
ملاوٹ مافیا بھی عوام کو دونوں ھاتھوں سے لوٹ رھا ھے اس کا ذمہ دار کون ھے۔ جہاں جس کا دائولگ رھا ھے وہ لگا رھا ھے۔ غریب اور متوسط طبقہ کا کوئی والی وارث نہیں۔ بعض کالی بھیڑوں اور سرپرستوں کی بدولت ناجائز منافع خور اور ذخیرہ اندوز بڑی ڈھٹائی سے سرگرم عمل ھیں۔جبکہ ضلعی اداروں کے اھلکاران خاموش تماشائی بنے ھوئے ھیں۔
وزیراعظم پاکستان۔ چیف جسٹس آف پاکستان۔ وزیراعلیٰ پنجاب۔ کمیشنر و ڈپٹی کمیشنرز سے اپیل ھے کہ خدا راہ عوام کی مشکلات کو حل کرنے کے لیئے کوئی مثبت لائحہ عمل مرتب کریں۔ تاکہ عوام کی پریشانیوں کا ازالہ ممکن ھوسکے۔