سکون کی تلاش

محمد باقر جاوا
انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ سکون ہے۔ یہ وہ دولت ہے جس کے بغیر دنیا کی ہر نعمت، ہر آسائش اور ہر کامیابی بے معنی ہو جاتی ہے۔ مادی ترقی نے انسان کو سہولتیں تو دی ہیں مگر دل کے اطمینان سے محروم کر دیا ہے۔ ااج کا انسان اپنی بے چینی کم کرنے کے لئے دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے، شہرت کے خواب دیکھ رہا ہے اور طاقت کے زعم میں دوسروں کو روند رہا ہے۔۔ لیکن اس کے باوجود ان کے دل سکون جیسی نعمت سے محروم ہے۔۔قرآن مجید نے اس حقیقت کو بڑی سادگی اور جامعیت کے ساتھ بیان کیاہے: ’’یاد رکھو! اللہ کے ذکر سے ہی دل مطمئن ہوتے ہیں‘‘۔یہ آیت انسانی فطرت کی اس تشنگی کا علاج ہے جو ہر آسائش اور سہولت کے باوجود بجھتی نہیں۔۔ یہ ایک ابدی اصول ہے کہ سکون نہ دنیا کے ظاہری اسباب سے ملتا ہے اور نہ خواہشات کی تکمیل سے بلکہ سکون کا سرچشمہ صرف اور صرف ذکرِ الٰہی ہے۔ عبادت اور ذکرِ الٰہی انسان کو اس کے خالق سے جوڑتے ہیں۔ یہی تعلق انسان کی روح کو تازگی اور دل کو قرار دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ذکرِ خدا دلوں کی جِلا ہے‘‘۔ یعنی جیسے زنگ آلود لوہے کو جِلا کی ضرورت ہوتی ہے، ویسے ہی غفلت اور دنیا کی آلودگی سے متاثر دلوں کو ذکرِ خدا ہی زندہ اور منور کرتا ہے۔حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ’’ذکرِ خدا سکونِ دل کا باعث اور شیطان کو دور کرنے والا ہے‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان کی بے چینی کا سب سے بڑا سبب نفس اور شیطان کا اثر ہے۔ جب دل اللہ کے ذکر سے معمور ہو تو یہ وسوسے ختم ہو جاتے ہیں اور دل پر طمانیت کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: ’’عبادت دل کی جِلا اور یقین کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے‘‘۔ عبادت محض رسم یا جسمانی مشقت نہیں بلکہ یہ روح کی غذا ہے جو انسان کو باطنی طور پر طاقتور اور پر سکون بناتی ہے۔امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: ’’دلوں کو نرمی اور سکون ذکرِ خدا سے ملتا ہے‘‘۔ یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی سختی، غصہ اور بے چینی کا علاج بھی ذکر ہے۔ جب زبان اور دل یکجا ہو کر خدا کو یاد کرتے ہیں تو نفس کی سختی مٹتی ہے اور انسان دوسروں کے ساتھ نرمی و محبت سے پیش آتا ہے۔امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: ’’جو شخص خدا کو کثرت سے یاد کرتا ہے، اس کا دل نورانی اور زندگی پرسکون ہو جاتی ہے‘‘۔ یہ فرمان عبادت اور ذکر کی عملی افادیت کو واضح کرتا ہے۔ ذکر انسان کی زندگی کے ہر گوشے میں نور پھیلاتا ہے اور جب دل نورانی ہو 
جائے تو دنیا کے اندھیرے اس پر غالب نہیں آتے۔عبادت صرف نماز، روزہ یا مخصوص اعمال تک محدود نہیں بلکہ یہ بندگی کے ہر اس عمل کا نام ہے جس میں انسان اپنے خالق کو یاد کرے۔ امام علی زین العابدین علیہ السلام نے اپنی دعائوں میں بار بار یہ سبق دیا کہ عبادت کے بغیر انسان کی روح تشنہ رہتی ہے۔ آپ کی مناجاتیں دراصل یہ اعلان ہیں کہ دل کا سکون خالق سے براہِ راست تعلق قائم کرنے میں ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جب بھی کسی کام میں دل کو بے سکونی محسوس ہو تو ذکرِ خدا کرو، کیونکہ ذکر دل کو سکون دیتا ہے‘‘۔ یہ حدیث ہمیں ایک عملی رہنمائی دیتی ہے کہ بے چینی کے لمحات میں دوڑ دھوپ کرنے کے بجائے اللہ کے ذکر سے دل کو سہارا دیا جائے۔دنیاوی وسائل سے وقتی خوشی تو حاصل ہو سکتی ہے لیکن دیرپا سکون ممکن نہیں۔ سکون ہمیشہ اندر سے آتا ہے، اور اندرونی سکون تبھی حاصل ہوتا ہے جب دل اپنے خالق سے جْڑ جائے۔ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: ’’جو دل ذکرِ خدا سے غافل ہو، وہ ویران ہو جاتا ہے‘‘۔ ایک ویران دل میں نہ اطمینان ہوتا ہے نہ محبت اور نہ ہی دوسروں کے لیے خیر۔ ذکر سے غافل انسان خواہ کتنا ہی دولت مند یا طاقتور کیوں نہ ہو اس کی زندگی اضطراب کا شکار رہتی ہے۔ذکرِ الٰہی کی مختلف صورتیں ہیں: نماز، قرآن کی تلاوت، دعا، استغفار، تسبیح، اور حتیٰ کہ روزمرہ زندگی کے کاموں میں بھی نیت کو اللہ کے لیے خالص کر لینا۔ جب انسان یہ سب اپناتا ہے تو سکون اس کی زندگی میں اتر آتا ہے۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ’’ذکرِ خدا دلوں کے لیے سکون اور زبانوں کے لیے شرف ہے‘‘۔ اس فرمان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذکر نہ صرف دل کو قرار دیتا ہے بلکہ انسان کی شخصیت کو بھی بلند کرتا ہے۔امام حسین علیہ السلام نے دعا میں فرمایا: ’’اے پروردگار! تیری یاد دلوں کے لیے آرام ہے‘‘۔ یہ دعا دراصل ایک حقیقت کا اعلان ہے کہ ذکر صرف ایک رسمی عمل نہیں بلکہ انسان کے وجود کے لیے سکون کا سرچشمہ ہے۔ آج کی دنیا میں جب ہر طرف اضطراب، بے یقینی اور مایوسی کا غلبہ ہے، اہل بیت کی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ سکون صرف اس دل کو ملتا ہے جو ذکرِ خدا سے آباد اور محبتِ محمد و آل محمد سے روشن ہو۔ یہ محبت انسان کے اندر وہ نور پیدا کرتی ہے جو اس کو زندگی کی مشکلات میں صبر عطا کرتا ہے، اس کو دوسروں کے لیے خیر کا ذریعہ بناتا ہے اور اسے اپنے نفس پر قابو پانے کی طاقت دیتا ہے۔ ایک ایسا دل جو ڈکر الٰہی  اور محبتِ محمد و آل محمد سے آباد ہو وہ نہ دولت کے لالچ میں اندھا دھند بھاگتا ہے اور نہ اقتدار کے نشے میں دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے اور اپنی ذات کو خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ یہی طرزِ حیات فرد کو سکون اور معاشرے کو امن عطا کرتا ہے۔یہ حقیقت اٹل ہے کہ سکون نہ بازار سے خریدا جا سکتا ہے، نہ اقتدار کے ایوانوں میں مل سکتا ہے اور نہ شہرت کے میناروں میں۔ سکون صرف اور صرف اْس دل کو نصیب ہوتا ہے جو ذکرِ الٰہی سے معمور ہو اور جسے محمد و آل محمد کی محبت نے روشن کر رکھا ہو۔ اگر ہم حقیقی سکون چاہتے ہیں تو ہمیں دنیا کی ظاہری چمک دمک کے بجائے اْس نور کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل بیت کی تعلیمات سے ملتا ہے۔ یہی تعلیمات ہمیں بے چینی کی آگ سے نکال کر روحانی راحت اور ابدی سکون عطا کر سکتی ہیں۔