ایک مسیحا کی رحلت

انتظار احمد سدید
ڈاکٹراحسان الہی حقیقت میں انسانیت کے لیے اللہ کا احسان تھے ‘تصوف کی زبان میں وہ منزل احسان پر فائز محسوس ہوتے تھے  ‘ان کی دنیا سے رحلت ،عوام وخواص کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے ‘ڈاکٹر صاحب اپنے  قول و فعل  کی عملی تصویر تھے _وہ  اس دور میں میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لینے میں کامیاب ہوئے  جب یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا ‘آپ کے کردار و افکار سے کبھی بھی غرور تکبر نظر نہیں آیا _اپنی سادہ طبیعت اور مسحور کن شخصیت کی بدولت آپ  عوام و خواص میں یکساں مقبول عام تھے ‘ڈاکٹر صاحب کی  مسحور کن طبیعت اور سادہ گفتگو  سے مریض کا آدھا مرض ختم ہو جاتا تھا  ‘صوم و صلاۃ کے پابند ،نرم دل ،غریب پرور ،بلند حوصلہ ،کشادہ  دل اور غریب پروری ایسے اوصاف سے مزین  ڈاکٹر احسان الہی کو مرحوم کہتے ہوئے دل کو شاک لگتا ہے ‘آپ  ہفتہ قبل نماز عصر کی ادائیگی کے بعد تحصیل سول ہسپتال بھیرہ کی جامع مسجد سے باہر نکلے ہی تھے کہ ایک سفاک موٹر سائیکل سوار نے آپ کو کچل دیا ‘ چار ،پانچ دن موت حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد الائیڈ ہسپتال کیمپلیکس  فیصل اباد میں آپ نے جان ،جان آفرین کے سپرد کر دی 
راقم کا تعلق ڈاکٹر احسان الہی سے چار دہائیوں پر محیط ہے ‘زمانہ طالب علمی میں جب بھی خرابی صحت کے معاملات سے دو چار ہونا پڑتا تو اسی مشفق مسیحا کے کلینک واقع متصل  دربار پیر میراں سبحان شاہ گیلانی  رحمتہ اللہ تعالی علیہ میں جانا ہوتا _آپ کی مسکراہٹ اور سادہ گفتگو سن کر نہ صرف دل کو سکون ملتا تھا بلکہ مرض بھی دور ہو جایا کرتا تھا ‘اپ نسخہ لکھتے جاتے اور ساتھ لطائف بھی سناتے جاتے تھے ‘ یوں  مریض اور ڈاکٹر کے درمیان فاصلہ ہی کم نہیں ہوتا تھا بلکہ اپنائیت اور محبت کا وہ احساس ملتا تھا جس  سے طمانیت قلبی محسوس ہوتی تھی _آپ نہ صرف خود صوم و صلاۃکے  پابند تھے بلکہ آنے والے مریضوں کو یوں تبلیغ دین کرتے تھے کہ ان کی طبیعت پر گراں محسوس نہیں ہوتی تھی ‘ڈاکٹر احسان الہی کا تعلق ایک ایسے خانوادے سے تھا جہاں علم سے محبت نسبی وقلبی تھی  ‘آپ کے برادر بزرگ محمد عارف سیاسیات کے نامور پروفیسر اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں _انہوں نے 80 کی دہائی میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے "پاک بھارت تعلقات" پر مقالہ لکھ کر یہ ڈگری حاصل کی تھی ‘وہ 90 کی دہائی میں روزنامہ "جنگ "میں کالم لکھا کرتے تھے ‘جب راقم گورنمنٹ ڈگری کالج بھلوال کے کالج میگزین" کاوش" کا ایڈیٹر تھا تو ڈاکٹر محمد عارف صاحب ہمارے  سرپرست تھے ‘ڈاکٹر احسان الہی کے ایک بھائی سعودی عرب میں شاہی خاندان کے بہت ہی قریب رہے 
ڈاکٹر احسان الہی کو یہ اعزاز بھی  حاصل ہے کہ وہ علاقہ بھر کے ہر گھر کے گھریلو معالج تھے ‘اپ عوام و خواص میں یکساں مقبول ومشہور تھے ‘ہمارے علاقے کے تمام سیاست دان اور مذہبی رہنما ان کا احترام کرتے تھے کیونکہ وہ سب کے ذاٹی معالج تھے ‘بھیرہ  کے نیک نام 
بزرگ اور سپریم کورٹ شریعت اپیلنٹ پنچ کے جسٹس ضیاء￿  الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازھری رحمتہ اللہ علیہ کے آپ  معالج  خاص تھے _ڈاکٹرصاحب شیخ الادب مولانا عبدالرشید رحمتہ اللہ علیہ کے پیچھے نماز جمعہ ادا کرتے تھے _ آخر عمر میں جب  مولانا عبدالرشید رحم? اللہ علیہ بیمار ہوئے  دن میں دو دو بار انہیں چیک کرنے کے لیے تشریف لاتے تھے _علاقہ بھر کے سادہ اور دیہاتی مزاج لوگ آپ کی خوش مزاجی اور سادہ  طبیعت کی بدولت دل و جان سے آپ پر فدا ہوتے تھے _ان کے کلینک میں جو اپنائیت ملتی تھی اس کی مہک ہفتوں دل و دماغ کو مسحور  رکھتی تھی _ ڈاکٹر صاحب جب شاہ پور  صدر میں تعینات ہوئے تو راقم کوان کے ہم سفر ہونے کا موقع میسر ایا _دوران سفر اپ حکمت و دانائی کی وہ باتیں کرتے  کہ دل شاد ہوتا تھا _ایک دفعہ راقم کے  استفسار پر فرمایا   "بالوں میں سفیدی کا آنے  کی  میڈیکل وجوہات تو یہ ہیں کہ فلاں چیز کی کمی ہو جاتی ہے لیکن حقیقت یوں ہے کہ 40 سال کے بعد اللہ رب العزت بندے کو اشارہ دیتے ہیں کہ اب واپسی ہونے والی ہے _ لہذا 40 سال عمر گزرنے  کے  بعد ہر اس شخص پر حیرانگی ہے جو اپنے رب کو بھول کر دنیا میں مگن ہو جاتا ہے _ڈاکٹر صاحب آخری عمر میں قران فہمی کے لیے بہت کوشاں رہتے تھے _دوران سفر قران کی تلاوت کرتے رہتے یا پھر دینی وتحقیقی مسائل کو اس طرح پوچھتے کہ  بتانے والی کی خود تشفی ہو جاتی تھی _ڈاکٹر صاحب راقم کی " ماں جی "کے معالج خاص تھے _وہ بغیر کسی ٹیسٹ کے مرض کی تشخیص یوں کرتے کہ بڑے بڑے ماہر سپیشلسٹ معالج بھی ان کی تشخیص پر حیران و ششدر رہ جاتے _ڈاکٹر صاحب نے 20 برس قبل" ماں جی" کے مرض کے حوالے سے ایک اشارہ دیا تھا ،جس کو ہم نے قابل اعتناء￿  نہ جانا  _2020 میں جب" ماں جی" واہ کینٹ ملٹری ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں تھیں  تو مکمل جسمانی ٹیسٹ کے بعد تشخیص وہی ہوئی جو ڈاکٹر احسان الہی صاحب نے کئی برس قبل کی تھی _"ماں جی" کا آپ پر اتنا اعتماد تھا کہ بیماری کے دوران برگیڈیئر، ڈاکٹر کو کہتی کہ" تمہیں کچھ نہیں پتا، ڈاکٹر احسان الہی سب جانتا تھا _2020 میں جب تمام ملٹری ہسپتال کے  معالجین نے" ماں جی "کے مرض کو لاعلاج قرار دیا تو ہم انہیں بھیرہ لے آئے _قدرت خدا کی ،کہ ڈاکٹر احسان الہی کی دوا سے وہ صحت یاب ہو گئی _87 سال کی عمر میں جب" ماں جی" کا انتقال ہوا تب بھی ڈاکٹر احسان الہی ان کے معالج تھے _ڈاکٹر صاحب شہر بھر کے تمام امیر و غریب لوگوں کی غمی خوشی میں شرکت فرماتے تھے _مہنگائی کے اس دور میں آپ کی فیس 200 روپے تھی _غریب اور تعلق والے لوگوں کے لیے اپ نے الگ پیڈ رکھا ہوا تھا _جس پر نسخہ لکھتے اور دوا ساز کو یہ اشارہ ہوتا کہ اس کی کوئی فیس نہیں ہے _ایسے غرباء￿  کی تعداد ہزاروں میں ہیں  جن کو ڈاکٹر صاحب اپنے پاس سے مفت دوا یوں  فراہم کرتے تھے کہ ان کی عزت نفس بھی مجروح نہیں ہوتی تھی _ 2006 میں راقم کے پاس ان کے دو فرزند" اسد اکیڈمی" میں فرسٹ اور سیکنڈ ایئر کے طالب علم تھے _ان دنوں راقم  ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے کچھ ایسے پہلوؤں سے روشناش ہوا جو عام لوگوں سے پوشیدہ تھے _اپ سے لوگوں کی عقیدت اور محبت کا یہ عالم تھا کہ صبح سات بجے سے رات گئے تک اپ کے کلینک پر رش لگا رہتا _ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اپ کی طبع نازک پر  مریضوں کی وجہ سے گرانی ہوئی ہوں _شگفتہ مزاج ،چمکتا چہرہ ،شرم و حیا سے مزین شخصیت کے حامل ڈاکٹر احسان الہی جب دنیا سے گئے توعلاقہ بھر میں گہرام مچ گیا _آپ کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے لئے شہر کی بجائے دور دراز بھیرہ انٹرچینج و سروس ایریا کے قریب واقع ان  کے آبائی قبرستان پیر ملامہ نزد علی پور کا گراونڈ تجویز ہوا _اپ کی مقبولیت ، انسان دوستی، غریب پروری اور وضعداری کی وجہ 
سے اپ کی نماز جنازہ میں انسانوں کا ایک سمندر یوں امنڈ ایا کہ  وسیع و عریض گراؤنڈ اور پورا قبرستان تنگ پڑ گیا  _نماز جنازہ کے بعد آپ کو اپنے اباؤ اجداد کے درمیان سپرد خاک کر دیا گیا _یقینا ڈاکٹر احسان الہی کو دنیا سالوں یاد رکھے  گی _ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ مستقبل قریب میں دور دور تک پر ہوتا  نظر نہیں اتا _رہے نام اللہ کا _بہت خوبیاں تھیں جانے والے میں _