عاصم فاروق
بلوچستان ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہے، اور اس بار بھی وجہ کوئی خوش آئند نہیں۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ، جہاں درجنوں بے گناہ جانوں کا ضیاع ہوا، ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ آخر ہم کب تک طاقت کے ذریعے ان مسائل کو دبانے کی کوشش کرتے رہیں گے؟ بلوچستان میں جاری مزاحمتی تحریک کو صرف *فوجی طاقت یا سخت اقدامات سے نہیں دبایا جا سکتا، بلکہ اس کا پائیدار اور دیرپا حل سیاسی، آئینی اور مقامی شمولیت پر مبنی ہونا چاہیے۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا لیکن سب سے کم ترقی یافتہ صوبہ ہے۔ یہاں کے عوام دہائیوں سے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، بنیادی سہولیات کی کمی، جبری گمشدگیوں، اور سیاسی بے دخلی جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ ایسے میں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) جیسے علیحدگی پسند گروہوں کا پیدا ہونا حیرت کی بات نہیں، بلکہ ایک قدرتی ردعمل ہے۔ جعفر ایکسپریس کا واقعہ اسی جاری تنازعے کی کڑی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم فوجی آپریشنز اور سخت کارروائیوں کے ذریعے بلوچستان میں امن قائم کر سکتے ہیں؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت ہمیشہ وقتی حل ثابت ہوتی ہے، جبکہ پائیدار امن کے لیے نرم اور سیاسی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ بلوچستان کے مسئلے کا مستقل حل وہاں کے مقامی رہنماؤں، سرداروں، طلبہ تنظیموں، اور عام عوام کو اعتماد میں لے کر آئینی اور سیاسی عمل کا حصہ بنانے میں ہے*۔ جب تک بلوچستان کے عوام کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ پاکستان ان کا بھی اتنا ہی ہے جتنا باقی صوبوں کے شہریوں کا، تب تک وہ بداعتمادی کا شکار رہیں گے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ بلوچ عوام کو ملک کے مرکزی دھارے میں شامل کرے، ان کے حقوق بحال کرے، اور ان کے لیے سیاسی میدان میں مواقع فراہم کرے۔ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز، تعلیمی سہولیات کی فراہمی، اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہی اصل حل ہے، نہ کہ طاقت کا استعمال۔ میڈیا، اکیڈمیا، اور سول سوسائٹی کو بلوچستان کے مسائل پر کھل کر بات کرنی چاہیے۔ بلوچ نوجوانوں کو قومی میڈیا میں نمائندگی دی جائے، تاکہ وہ اپنے مسائل خود بیان کر سکیں۔ انہیں قومی مکالمے کا حصہ بنایا جائے، بجائے اس کے کہ ان کی آواز کو دبا دیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بلوچ عسکریت پسند گروہوں سے بھی
بامقصد مذاکرات کرے، جیسے سری لنکا نے تامل ٹائیگرز کے ساتھ کیے، یا جیسے جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے اپنی تحریک کو مذاکرات کی میز پر لے جا کر ایک پرامن حل نکالا۔ بلوچستان میں بھی اگر مخلصانہ ثالثی کی جائے، تو امن ممکن ہے۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ ایک المیہ ہے، لیکن یہ ہمیں موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ ہم بلوچستان کے مسئلے کا سنجیدگی سے مستقل حل نکالیں۔ طاقت ہمیشہ عارضی سکون تو دے سکتی ہے، لیکن اصل امن صرف بات چیت، شراکت داری، اور آئینی حقوق کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔ بلوچستان کو پاکستان کے دل کے قریب لانا ہے، تو اسے صرف بندوق سے نہیں، بلکہ محبت، ترقی، انصاف، اور برابری کے اصولوں پر چل کر حاصل کرنا ہوگا۔