صوبہ خیبرپختونخوا دہشتگردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ترجمان پاک فوج
دہشتگرد عناصر سانپ کی طرح ہوتے ہیں‘سہولت کاروں کے پاس 3راستے ہیں، خوارج کو ریاست کے حوالے کیا جائے ‘ ریاست کیساتھ ملکر خارجیوں او ردہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں کریں:ترجمان
اگر ہر مسئلے کا بات چیت میں ہوتا تو کوئی غزوہ ہوتی، نہ جنگیں ہوتیں ‘ نہ مہمات ہوتیں‘ عمائدین نے فیصلہ کیا تھا ہم بیانیہ بنائیں گے مگر گمراہ کن بیانیہ بنایا جاتا ہے‘ سیاستدانوں، تمام صوبائی حکومتوں نے کہا تھا دہشت گردی کو ختم کرنا ہے
سیاستدانوں اور سیاسی حکومتوں نے فیصلہ کیا تھا دہشت گردی کے مقدمات کیلئے اپنے عدالتی نظام کو مضبوط کرنا ہے‘ اگست 2025 میں خیبرپختونخوا کی انسداد دہشت گردی عدالتوں سے کسی دہشت گرد کو سزا نہیں ہوئی
ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے‘ ہمارے لئے سیاستدان قابل احترام ہیں لیکن آپ کی سیاست ریاست سے اوپر نہیں ہے، آج یہ بیانیہ کہاں سے آگیا افعانوںکو واپس نہیں بھیجنا:ترجمان کی پریس کانفرنس
پشاور (آن لائن‘آئی این پی ) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے پاکستان کی سیکیورٹی کسی دوسرے ملک خصوصا افغانستان کے حوالے نہیں کی جائے گی ،ہمیں کسی سے سیکورٹی بھیک مانگنے کی ہر گز کوئی ضرورت نہیں ۔ خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کے پیچھے مجر مانہ اور سیاسی گٹھ جوڑ ہے ، نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ کرنے کی وجہ سے دہشتگردی پر قابو نہ پایا جا سکا ، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خیبر پختونخواہ میں دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کو سپیس دی گئی ، خوارجیوں کی پشت پناہی کرنے والوں کے پاس تین ہی آپشنز ہیں جن پر اگر عمل نہیں کر سکتے تو پھر ریاست کی جانب سے بھر پور ایکشن کے لئے تیار ہو جائیں ۔ پریس کانفرنس کرتے ہوے ڈی جی آئی ایس پی آر نے 2016 سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا شروع کیا اور ایک پر امن خیبرپختونخوا کے خواب کی تکمیل کے قریب پہنچ گئے۔ مگر بدقسمتی سے خیبرپختونخوا میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو اسپیس دی گئی، صوبے میں گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کو جان بوجھ کر کمزور کیا گیا، جس کا خمیازہ آج تک خیبرپختونخوا کے بہادر اور غیور عوام اپنے خون اور اپنی قربانیوں کے ذریعے بھگت رہے ہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ان عوامل کو جاننا ضروری ہے جن کی وجہ سے آج دہشت گردی موجود ہے، انہوں نے دہشت گردی ختم نہ ہونے کی 5 بنیادی وجوہات بھی بیان کیں۔ ان کا کہنا تھا نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ کرنا ، دہشت گردی کے معاملے پر سیاست کرنا اور قوم کو اس سیاست میں الجھانا، بھارت کا افغانستان کو دہشت گردی کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا، افغانستان میں دہشت گردوں کو جدید ہتھیاروں اور پناہ گاہوں کی دستیابی، مقامی اور سیاسی پشت پناہی کا حامل دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کا گٹھ جوڑ دہشتگردی کے پنپنے کے بنیادی محرکات ہیں ‘ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے گٹھ جوڑ مکمل مقامی اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ 2014 میں سانحہ اے پی ایس کے بعد تمام سیاسی جماعتیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں پشاور میں بیٹھیں اور ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جسے نیشنل ایکشن پلان کا نام دیا گیا اور تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا کہ اگر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا ہے تو ان نکات پر کام کرنا ہے۔ تاہم 2021 میں گذشتہ صوبائی حکومت نے جن نکات پر کام ہوچکا تھا انہیں خارج کرکے 14 نکات پر مشتمل نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا اور تمام سیاسی عمائدین ، تمام سیاسی جماعتوں اور اس وقت کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ اگر دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنا ہے تو ان 14 نکات پر کام کرنا ہے۔ ‘ دہشت گردی کی اولین وجہ یہ ہے کہ ان نکات پر عمل نہیں ہورہا‘ترجمان پاک فوج نے سوال کیا کہ کیا آپ کو یہ آواز نہیں آتی کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کرلیے جائیں، کیا ہم اس نیشنل ایکشن پلان پر عمل کررہے ہیں؟ کیا ہر مسئلے کا حل بات چیت ہے ؟ اگر حل مسئلے کا حل بات چیت میں ہے تو جب 6 اور 7 مئی کو بھارت نے پاکستان پر میزائل مارے، معصوم بچوں، خواتین، مدرسوں اور مساجد کو شہید کیا تو اس ملک کے عوام نے یہ کیوں نہیں کہا کہ اگلے دن بات چیت کرلیتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ اگر ہر مسئلے کا بات چیت میں ہوتا تو کوئی غزوہ ہوتی، نہ جنگیں ہوتیں اور نہ مہمات ہوتیں، اگر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو بدر کے میدان کو یاد کریں کہ سرور کونینﷺ جن کے لیے دو جہان بنائے گئے، وہ ذات جس سے بڑھ کر کوئی انسان نہیں، انہوں نے اس دن کیوں بات چیت نہیں کرلی؟انہوں نے کہا آپ کے عمائدین نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم بیانیہ بنائیں گے مگر گمراہ کن بیانیہ بنایا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے نہیں ہمارے سیاستدانوں، تمام صوبائی حکومتوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی کو ختم کرنا ہے دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو توڑنا کرنا ہے، غیرقانونی کاروباروں، منشیات، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے ناسور سے اپنے خطے کو پاک کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے ان ناسوروں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں، تو ان عناصر کی پشت پناہی کے لیے مختلف سیاسی اور مقامی سطح سے آوازیں آتی ہیں، فیصلہ تو آپ نے کیا تھا کہ اس کو ختم کیے بغیر دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اس ملک کے سیاستدانوں اور سیاسی حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ دہشت گردی کے مقدمات کے لیے اپنے عدالتی نظام کو مضبوط کرنا ہے لیکن ابھی ہم کہاں کھڑے ہیں کہ اگست 2025 میں خیبرپختونخوا کی انسداد دہشت گردی عدالتوں سے کسی دہشت گرد کو سزا نہیں ہوئی، 34 مقدمات زیر التو ہیں، 2878 زیرالتوا مقدمات 3 سال سے کم عرصے جبکہ 1706 مقدمات کو 3 سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے جوڈیشل سسٹم کی کمزوری کا عکاس ہے ۔ دہشت گردی اور غیرقانونی کاروبار کے گٹھ جوڑ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے پیشے غیرقانونی کاروبار کا گٹھ جوڑ ہے، منشیات کے 10 ہزار 87 کیسز میں سے صرف 679 مجرموں کو سزا ہوئی جبکہ غیرقانونی ہتھیاروں کے 33 ہزار 389 مقدمات میں صرف 6 ہزار 945 مجرموں کو سزا ہوئی، انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف عدالتی مہم کی یہ صورتحال ہے۔ 2014 اور 2021 میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں دہشت گردی کو ختم کرنا ہے تو محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مضبوط کرنا ہے مگر اس وقت سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کی آپریشنل صلاحیت 3200 ہے، دہشت گردی آپ کے سامنے ہے،کیا یہ تعداد کافی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم خیبرپختونخوا کی بہادر پولیس اور سی ٹی ڈی کو سلام پیش کرتے ہیں، مگر اس کی تعداد صرف 3200ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہ نیشنل ایکشن پلان میں مدارس کے اندراج کا فیصلہ ہوا تھا مگر ہم اب تک صوبے میں 4 ہزار 355 تقریباً 55 فیصد مدارس کا آج تک اندراج ہوسکا ہے، ابھی اندراج ہی مکمل نہیں ہوسکا تو نصاب ایک کرنا اور اس کے اوپر نگرانی کرنا تو الگ بات ہے۔انہوں نے کہا اگر سوال یہ ہے کہ دہشت گردی ختم کیوں نہیں ہورہی تو ان سوالات کا جواب بھی دیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ 2014 اور پھر 2021 میں بھی یہ فیصلہ کیا گیا کہ افغانوں کو واپس بھیجنا ہے، تو آج یہ بیانیہ کہاں سے آگیا کہ ان کو واپس نہیں بھیجنا، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ 2014 اور 2021 میں غلط تھے، اور جب افغانستان میں امن آچکا ہے اور وہاں کوئی قابض افوج نہیں ہے، تو کئی دہائیوں تک افغان بھائی کی مہمان نوازی کرنے والی ریاست انہیں واپس جانے کا کہتی ہے تو اس پر سیاست کی جاتی ہے، اس پر بیانیے بنائے جاتے ہیں اور گمراہ کن باتیں کی جاتی ہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دوحہ معاہدے پر میں کہا گیا کہ افغان سرزمین نہ صرف امریکا بلکہ خطے میں بھی کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مگر آپ کیسامنے اعداد و شمار رکھے ہیں کہ کتنے افغان تشکیلات میں آتے ہیں، کتنے ہم نے ختم کیے اور کتنے افغان خودکش حملوں میں شامل ہیں، تو پھر کیسے افغان سرزمین خوارج اور دہشت گردوں کے لیے بیس کیمپ کے طور پر استعمال ہورہی ہے؟ انہوں نے کہاکہ امریکا افغانستان سے گیا تو اس کا چھوڑا ہوا اسلحہ بڑی تعداد میں خوارج کے پاس گیا، امریکا کی اپنی سگار کی 2024 کی رپورٹ کہتی ہے کہ امریکی فوج 7.2 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار افغانستان چھوڑ کر گئی۔ ترجمان پاک فوج نے خیبرپختونخوا میں آپریشنز کے دوران مارے گئے خارجیوں سے برآمد امریکی ہتھیاروں کی تصاویر بھی دکھائیں۔ نے کہا کہ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور ہمارا ان سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ افغانستان کو دہشتگردوں کی آماجگاہ نہ بننے دیں، ہمارے وزرا بھی وہاں گئے اور انہیں بتایا کہ یہ دہشتگردوں کے سہولتکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود بھارتی پراکسیز کی جانب سے دہشتگردانہ کارروائیاں کی گئیں، افغانستان پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے بیس کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، اس کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔گزشتہ رات کابل میں دھماکوں سے متعلق سوال پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لیے جو ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں وہ کیے جائیں گے اور کیے جاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا ماضی کی حکومت میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا جس کا خمیازہ قوم بھگت رہی ہے ، فوج ،پولیس، سیکیور ٹی اداروں کے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بجائے جب اس پر سیاست کی جائے گی تو پھر دہشتگردی کے ناسور سے کیسے نمٹ سکیں گے ۔ ہم گذشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف نبر د آزما ہیں ، ہمارے بچے رو زقرببانیاں دے رہے ہیں، شہدا ، افواج پاکستان اور پولیس کی جو تذلیل کی جاتی ہے وہ ناقابل برداشت ہے ۔ ترجمان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستانی عوام کی سیکیورٹی کسی دوسرے ملک خصوصا افغا نستان کے حوالے کرنے ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ہمیں کسی سے سیکورٹی بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ۔ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ، ریاست افواج اور قومی سلامتی کے ادار ملکی سیکیورٹی کے لئے موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کے پی کے کے عوام کو کسی واحد شخص کے ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ دہشتگرد اور انکے سہولت کاروں کے لئے زمین تنگ کر دی جائے گی ۔ پاکستانی قوم دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کو ہر گز قبول نہیں کرے گی ۔ اب کوئی سٹیٹس کو نہیں چلے گا ۔ جو شخص یا گروہ کسی مجبوری یا اپنے مفاد کے لئے دہشتگردوں کا سہولت کار ہے ۔ اس کے پاس تین ہی آپشنز ہیں خود خارجیوں کو ہمارے حوالے کرر دیں یا پھر ریاست کے ساتھ ملکر انکے خلاف لڑیں ۔ دونوں کام نہیں کر سکتے تو پھر ریاست طرف سے بھر پورایکشن کے لئے تیار ہو جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہدا اور کے پی کے کے غیور عوام کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ پاکستان کی خود مختاری کے لئے جو کرنا پڑا کریں گے ۔ انہوں نے کہا افغا نستان سے صرف یہ کہنا چاہتے ہیں ۔ افغانستان اپنی سرزمین کو نان اسٹیٹ ایکٹرز کی جگہ نہ بننے دے۔ افغانستان میں ہر دہشتگرد گروہ کی کوئی نہ کوئی شاخ موجود ہے ۔ دہشتگرد یا سانپ پال لیں دونوں کا کوئی اعتبار نہیں کیا جا سکتا اس بات کا افغانستان کو بھی ادراک کرنا ہو گا ۔ بھارت افغانستان کو پاکستان کے خلاف بیسڈ کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک نے بھی افغانستان کو سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔ ترجمان نے کہا پاک افواج دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کے لئے پر عزم ہیں ، ہم سب متحد کو کر دہشتگردی کو جڑ سے اکھا ڑ پھینکیں گے ۔ قومی ادارے کسی سیاسی شعبدہ بازی سے متاثر نہیں ہوں گے ۔ ترجمان نے کہا دہشتگردوں کا کوئی دین مذہب نہیں ہوتا ، خوارجیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، اسلام میں کہاں لکھا ہے کہ بیگناہوں کا خون بہا دیں ، خودکشیاں کریں ، دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کے مطالبے پر بات کرتے ہوے انہوں نے کہا کون کہہ رہا ہے کہ ایسی صوبائی حکومت قبول نہیں جس نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی حمائت کی۔ کس نے کہا کہ دہشتگردوں سے بات چیت کرو ان کے خلاف آپریشن نہ کریں ۔ کون کہہ رہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی کی گارنٹی افغانستان دے گا ۔ کیا ہم بھارت کے ساتھ بیٹھ کر کلائمیکس کرنے والے سے بات کریں ۔ کیا یہ دہشتگرد اپ کے بچوں کو ورغلا نہیں رہے ۔ انہوں نے کہ یہ صوبائی اور مقا می انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو بہترین سہولیات فراہم کریں ۔ انھیں دہشتگردی کی طرف راغب ہونے سے بچانا حکومتوں کا کام ہوتا ہے ۔ گڈگورننس کا جو خلا ہے یہ دہشتگردی کے پنپنے کی ایک بڑی وجہ ہے ۔ ترجمان نے کہا حکمران جب عوامی فلاح پر توجہ نہیں دیں گے انکی تمام تر توجہ سیاست پر ہوگی تو عوام میں مایوسی تو پیدا ہو گی ۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید پر لگے الزامات سے متعلق انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے، پاک فوج میں خود احتسابی کا عمل بہت مربوط اور اچھا ہے لیکن فوج میں خود احتسابی کا عمل محض الزامات پر کام نہیں کرتا، الزمات ثابت ہو جائیں پھر سزا دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس کا ٹرائل ہو رہا ہے وہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں اور یہ انتہائی اہم نوعیت کا معاملہ ہے جس کا ایک قانونی طریقہ کار ہے، سب کو اندازہ ہونا چاہیے اس معاملے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں گے۔ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں تاخیر کی پروا نہیں، انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے اور افواج پاکستان میں دفاع کے لیے تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، ہمارے لیے سیاستدان قابل احترام ہیں لیکن آپ کی سیاست ریاست سے اوپر نہیں ہے، اپنی فوج کو گھٹیا بیان بازی اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے دور رکھیں۔ ہم نہ کسی فرقے ، کسی پارٹی کے ساتھ ہیں ، فیصلے ریاست کرتی ہے ہم صرف اپنی رائے دیتے ہیں ۔ ترجمان نے کہا کہ ریاستی فیصلے پر جب انکا ساتھ دیا جاتاہے تو ہوتا یہ ہے کہ فیصلہ صحیح ہو جائے تو کریڈ ٹ ریاست جبکہ کچھ غلط ہو تو فوج کے سر ڈال دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بیانیہ بنانے والی پارٹی کے پاس تو مائیک موجود ہے، جب چاہا بیان دے دیا لیکن پاک فوج کا ترجمان روزانہ بیٹھ کر کسی کو جواب نہیں دے سکتا اور یقیناً آپ بھی ایسا نہیں چاہیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے مضبوط جوڈیشل سسٹم ضروری ہے۔ سچ اور حقائق عوام کے سامنے رکھنا میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ ملک ہم سب کا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خوارجی نورولی محسود نے چند ماہ قبل کہا اسلام کی روح میں مشرک کے ساتھ بھی الحاق جائز ہے، نورولی محسود کا اسلام تو یہ کہتا ہے،کیا اس سے بات چیت کریں؟دہشتگرد کا کسی مذہب، نسل یا سوچ سے تعلق نہیں، دہشتگرد آج ایک تنظیم میں ہے کل کہیں اورسے زیادہ پیسے ملیں گے وہ وہاں سے لڑے گا۔ انہوں نے پوچھا کہ دہشتگردوں کا خیبرپختونخوا کی روایات سے کوئی تعلق ہے، پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے کیلئے جو ضروری اقدامات ہونے چاہئیں وہ کیے جائیں گے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے جان،مال ،عزت وآبرو کی حفاظت کیلئے جو ممکن ہوا وہ کریں گے اورکرتے رہیں گے۔