بھارتی عدالت نے مسلم طالبہ کی حجاب کی درخواست مسترد کردی

بھارتی عدالت نے مسلم طالبہ کی حجاب کی درخواست مسترد کردی

بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر پریاگ راج (سابق الہ آباد) کی ہائی کورٹ نے ایک مسلمان طالبہ کی حجاب پہننے کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔

 عدالت کا فیصلہ اس کیس میں سامنے آیا ہے جب ایک کم عمر طالبہ سکینہ رضوی نے درخواست دی تھی کہ وہ اسکول یونیفارم کے ساتھ ہیڈ اسکارف پہننے کی اجازت دے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ طالبہ نے اپنے دعوے کے حق میں مناسب قانونی یا مذہبی مواد پیش نہیں کیا، جس سے ثابت ہوتا کہ حجاب اسلام کا لازمی مذہبی عمل ہے اور اس کے بغیر اس کا دین متاثر ہو جائے گا۔ لہذا، عدالت نے یہ کہتے ہوئے درخواست خارج کر دی کہ طالبہ کو حجاب پہننے کا قانونی یا مذہبی حق حاصل نہیں ہے۔درخواست گزار سکینہ رضوی کا موقف تھا کہ وہ دسویں جماعت تک اسکول میں حجاب پہن کر آتی رہی، لیکن اب اسکول کی جانب سے یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے پر اعتراض کیا جا رہا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی درخواست کا مقصد یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت طلب کرنا ہے۔دوسری جانب، اسکول کا مؤقف تھا کہ وہ ایک نجی اور غیر امدادی ادارہ ہے جہاں تمام طلبہ کے لیے ایک ہی یونیفارم مقرر ہے۔ اسکول کا کہنا تھا کہ کسی ایک طالب علم کو اضافی لباس کی اجازت دینا نظم و ضبط اور یونیفارم کی یکسانیت کو متاثر کرے گا۔

عدالت کے دو رکنی بینچ، جس میں جج جے جے منیر اور جسٹس اندرجیت شکلا شامل تھے، نے فیصلہ دیا کہ اگر اسکول کا ڈریس کوڈ یکساں اور نظم و ضبط کے لیے وضع کیا گیا ہے تو طالبہ اپنی مرضی سے اسے تبدیل کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر طالبہ نے ماضی میں حجاب پہننے پر اسکول کی طرف سے اعتراض نہ کیا ہو، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے مستقبل میں حجاب پہننے کا قانونی حق حاصل ہے۔اس فیصلے کے ذریعے عدالت نے اسکول کے نظم و ضبط اور یونیفارم کے اصولوں کو ترجیح دی ہے، اور حجاب کے حوالے سے مذہبی اور قانونی حقوق کے متعلق اہم سوالات کو مسترد کیا ہے۔