سپریم کورٹ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق حکومتی درخواست مسترد کردی

سپریم کورٹ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق حکومتی درخواست مسترد کردی

وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 18 اگست 2023 کے عبوری حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے۔

ذرائع کے مطابق، حکومت درخواست میں مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ حکم اختیارِ سماعت سے تجاوز کرتا ہے اور قانون کے مقررہ طریقہ کار کو نظرانداز کرتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم سے قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کے قانونی اور آئینی طریقہ کار پر اثر پڑتا ہے، اور اس حکم کو واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے۔ چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 201 کے مطابق انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات سے پیشگی منظوری ضروری ہے، اور منتقلی کے دوران حکومت کو فوری رپورٹ بھی دینا لازم ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ قیدی کی سکیورٹی پولیس کے ذمہ ہے اور علاج کے اخراجات محکمہ صحت برداشت کرتا ہے۔ آپریشن کی صورت میں قیدی کو جلد از جلد ہسپتال منتقل اور آپریشن کے بعد واپس جیل لانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 18 اگست کا حکم ان کے آئینی اور قانونی حقوق کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ انہیں مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا تھا، اور یہ کہ عدالت کو طبی ماہرین سے رپورٹ لے کر معاملہ طے کرنا چاہیے تھا۔درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ عدالت نے منصفانہ سماعت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز کیا ہے اور آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت فریقین کو مناسب سماعت کا حق دیا جانا ضروری ہے۔

چیف کمشنر نے یہ بھی کہا ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ باقاعدگی سے ہوتا رہا ہے اور متعدد مرتبہ میڈیکل بورڈ ان کا علاج کرچکا ہے، لیکن عدالت کو طبی معاملات میں ماہرین کی رائے لینا چاہیے تھا۔ مزید برآں، درخواست میں عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹس کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدالت کو چاہیے تھا کہ ان رپورٹس کی تصدیق کسی ماہر سے کروائی جاتی اور پھر فیصلہ کیا جاتا۔ درخواست گزار نے یہ بھی استدعا کی ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالجین کو علاج میں شامل کیا جائے، اہل خانہ کو صحت سے آگاہ کیا جائے، اور علاج کے دوران ملاقات کی اجازت دی جائے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم سے عمران خان کی تمام درخواستیں منظور کرلی ہیں، لیکن یہ فیصلہ عبوری مرحلے میں ہی کیا گیا ہے اور حتمی فیصلہ باقی نہیں رہ گیا ہے۔ آخر میں، یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 18 اگست کا حکم قانونی اور اصولی طور پر غلط ہے، اور اسے واپس لے کر نظرثانی کی جائے۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ چیف کمشنر اسلام آباد کو نظرثانی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی جائے، عبوری حکم واپس لیا جائے اور اسے کالعدم قرار دیا جائے۔