چین نے ایران کے خلاف امریکی نئی اقتصادی پابندیوں اور سخت اقدامات کی دھمکی پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قومی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان لن جیان نے ایک پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ چین نے سابق میں بھی یک طرفہ اور غیر قانونی پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور آئندہ بھی ایسے اقدامات کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والی بعض اداروں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے، جن میں چین سے تعلق رکھنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران کے عالمی اقتصادی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے مقصد سے کیے گئے ہیں اور دیگر ممالک و کمپنیوں پر بھی اثر انداز ہوں گے تاکہ تہران کی مالی اور تجارتی سرگرمیاں روکی جا سکیں۔
ایران اور چین کے درمیان توانائی، تیل اور دیگر تجارتی شعبوں میں گہرے اقتصادی روابط ہیں، اور چین ایران کا اہم تجارتی اور توانائی کا شریک ہے۔ اس لیے امریکی پابندیوں کا براہ راست اثر چین کے اقتصادی مفادات اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ چین کا موقف ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں قانونی اور جائز نہیں ہیں، اور بیجنگ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ اقدام کرے گا۔
اس صورت حال نے امریکہ اور چین کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی اور اقتصادی اختلافات کو مزید بڑھا دیا ہے، خاص طور پر ایران کے معاملے میں۔ دونوں طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں ایک اور اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی ماحول پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔