روس نے کہا ہے کہ ایران کے بحران کا حل صرف سفارتی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اس عمل میں تہران کے مفادات کا مکمل احترام ضروری ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ روس اس بات کے لیے تیار ہے کہ اگر ایران اور امریکہ مذاکرات کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچتے ہیں تو ماسکو اس پر عمل درآمد میں دونوں فریقوں کی مدد کرے گا۔روسی ترجمان نے مزید کہا کہ ایران کے یورینیم ذخائر کے مستقبل کا فیصلہ صرف ایران خود کرے گا اور اس معاملے میں کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر کشیدگی برقرار ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق روس مسلسل اس مؤقف پر زور دے رہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کو فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ خطے میں مزید عدم استحکام سے بچا جا سکے۔