جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے

 علیم اللہ چودھری
کائنات میں کچھ شخصیات ایسی بھی جنم لیتی ہیں جو جہاں بھی رہیں اپنی یادیں اور داستانیں چھوڑ دیتی ہیں ایسی ہی ایک شخصیت عمران خان کی ہے جو  1980 کی دہائی میں کرکٹ کے میدانوں میں نمودار ہوا اور اپنی کارکردگی سے اپنا نام بنایا عروج پر جانے کے بعد وہ ٹانگ میں فریکچر ہونے کے بعد ان فٹ ہوگیا جب کوئی کھلاڑی ان فٹ ہوتا ہے تو عمومااسکا کیریر تقریبا اختتام کی جانب چلاجاتاہے لیکن عمران خان نے دوبارہ فٹ ہو کرکرکٹ میں بام عروج پایا پاکستانی کرکٹ ٹیم اسکی کپتانی میں 1992 کے ورلڈکپ میں فاتح ٹھہری ورلڈ کپ میں فتح کے بعد عمران خان نے کرکٹ کے میدانوں کوخیرباد کہہ دیا اس کے بعد عمران نے سیاست میں قدم رکھا بلاخر 2018 کے جنرل الیکشنز میں فتح حاصل کرکے عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف برسر اقتدار آئی اور عمران خان پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے اپنے دور اقتدار میں عمران خان نے عوامی مفادات کیلیے بہت سے اقدامات کیے جسمیں صحت کارڈ اور دیگر اقدامات بھی شامل ہیں اپوزیشن اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے عمران خان کو وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور اداروں میں ہونیوالی کرپشن پرشدید تنقیدکا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا لیکن صحت کارڈ کے منصوبے کو عوام کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی جماعتوں سے وابستہ عوام نے بھی سراہا جب دنیاکے دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی کرونا کی وبا پھیلی تو عمران خان کی حکومت نے بہترین حکمت عملی سے کرونا کی وبا کو کنٹرول کیا جسکو اقوام عالم نے بھی سراہا اپنے دور حکومت میں عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کھڑے ہوکر تاریخی تقریر کی جسمیں عمران خان نے دنیا کو بتلایا کہ انسانی جسم کو پہنچنے والی تکالیف میں سب سے زیادہ تکلیف دل کی ہوتی ہے جب کفاراور اسلام دشمن عناصر ہمارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں تو بطور مسلمان  ہمارے دلوں کو شدید تکلیف ہوتی ہے کیونکہ ہمارے نبی کریم ہمارے دلوں میں رہتے ہیں عمران خان نے اسلام دشمن عناصر کو متنبہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایسی حرکات سے باز رہیں عمران خان کی اس تقریر کو مسلمانان عالم میں خوب پذیرائی ملی جب عمران خان کے حکومت کے آخری ایام چل رہے تھے توہرطرف مہنگائی اور کرپشن کے باعث عمران خان اور اسکی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاجارہا تھا اسی دوران عمران خان نے اپنی ایک تقریر میں کہاکہ اگر مجھے اقتدار سے نکالا گیا تو میں مخالفین کیلیے اور بھی خطرناک بن ہوجاؤنگا اور وہی ہوا کہ عمران خان اقتدار سے باہر ہوتے ہی خطرناک ہوگیا اوردن بدن انکی مقبولیت اور گراف  میں اضافہ ہوتاچلا گیا پھر ایک ایسا وقت آیا کہ عمران خان کیخلاف سینکڑوں مقدمات درج ہوئے انھیں  گرفتار کرکے جیل میں ڈالدیا گیا اور مقدمات میں سزا سنائی گئی اور اسے اڈیالہ جیل میں مقید کردیاگیا آج اسے مقید ہوئے تین سال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہیاور ہر طرف محفلوں اور سیاسی پلیٹ فارمز سوشل میڈیا پر اڈیالہ جیل کیچرچے ہیں چند روز قبل سپریم کی جانب سے  عمران خان کا طبی معائنہ کروانے کیلیے شفا ہسپتال لیجانے کا حکم آیاتو ہرطرف شفا ہسپتال کے چرچے ہونے لگے پاکستان تو کیااقوام عالم میں شفا ہسپتال کے چرچے اور گفتگو ہونے لگی مطلب یہ ہے گذشتہ چند سالوں کے دورآن عمران خان جہاں بھی گیے جہاں بھی مقید ہوئے جس ہسپتال میں علاج کے لیے گیے وہ مقامات زبان زد عام ہوگیے یوں کہیے کہ جہاں بھی گیے داستاں چھوڑ آئے  آنے والے وقتوں میں کیاحالات ہونگے عمران خان کا گراف بلند ہوگاوہ اقتدار میں آئیں گے یانہیں یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ آنے والا وقت اور اقتدار کس کا ہوگا کیونکہ زندگی موت رزق عزت ذلت مالک کائنات کے ہاتھ میں ہے۔