سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
17جون کوطے پانے والی مفاہمتی یادداشت بظاہرامن کی ایک کرن اورایک ایسے چراغ کی مانندتھی جواندھیرے میں جلایا گیاہو،مگراس کی روشنی کمزوراورغیرمستحکم تھی،جس کے اندرامیدکی کرن کے ساتھ فریبِ نظرجیسے اختلافات کی چنگاریاں پوشیدہ تھیں۔ یہ معاہدہ دراصل دومختلف نظریات کاتصادم تھاایک طرف عالمی آزادی تجارت،اوردوسری طرف علاقائی خودمختاری۔ اس میں شامل شقیں اگرچہ تعاون کی بات کرتی تھیں،مگران کے درمیان اختلاف کی خلیج بھی نمایاں تھی۔یہی حال اس معاہدے کابھی ہوا، جہاں الفاظ میں ہم آہنگی تھی مگرنیتوں میں اختلاف ۔امریکاکھلی گزرگاہ کاخواہاں تھا،جبکہ ایران کنٹرول اورفیس کے حق پراصرارکرتا رہا۔یوں الفاظ اورحقیقت کے درمیان یہ معاہدہ ایک ایسے پل کی مانندثابت ہواجو دونوں کناروں کوجوڑنے کے بجائے بیچ میں معلق رہ گیا۔ یہ معاہدہ گویاایک ایسی کشتی ثابت ہواجوبظاہرمستحکم دکھائی دیتی تھی مگراس کے اندرونی تختے کمزورتھے،اورجیسے ہی حالات کا دباؤ بڑھا،اس کی کمزوری نمایاں ہوگئی۔
اختیاراورذمہ داری کاتعلق ہمیشہ سے فلسفیانہ بحث کاموضوع رہاہے۔جب کسی کوذمہ داری دی جاتی ہے تووہ اس کے ساتھ اختیاربھی چاہتاہے،اوریہی وہ مقام ہے جہاں اختلاف جنم لیتاہے۔ایران نے اختیارکی فلسفیانہ جہت کے مدنظرمعاہدے کی شق نمبرپانچ کواپنے مؤقف کی بنیاداوراپنی دلیل کامحوربناتے ہوئے جس کے تحت اسے انتظامی کردارحاصل تھا،دراصل اس اصول کواجاگرکیاکہ بغیراختیارکے ذمہ داری محض ایک بوجھ بن جاتی ہے،اوریہی بوجھ تنازع کوجنم دیتاہے۔
ایران کامؤقف یہ تھاکہ اگرذمہ داری اس کی ہے تواختیاربھی اسی کاہوناچاہیے اوراس میں کوئی حیرت نہیں۔جب کسی ریاست کوذمہ داری دی جائے تووہ اختیاربھی چاہتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں تنازع جنم لیتاہے۔یہ شق دراصل ایک آئینی سوال بن گئی ،کیاذمہ داری اختیارکے بغیرمکمل ہوسکتی ہے؟یہی وہ نکتہ ہے جہاں عالمی قانون اورعلاقائی طاقت
کاتصادم واضح ہوجاتاہے۔
25اور27جون کے حملے محض حادثات نہیں تھے بلکہ اس کشیدگی کانقط عروج تھے جو کئی ہفتوں سے پنپ رہی تھی۔جون کے آخری ہفتے میں عمانی پانیوں میں جہازوں پرحملے اس کشیدگی کے ارتقاکی واضح مثال اورموجودہ جنگ کے ایک نئے مرحلے کانقط عروج بن گئے۔یہ واقعات اچانک نہیں ہوئے بلکہ ایک تدریجی عمل کانتیجہ تھے،جس میں ہرقدم پچھلے قدم کامنطقی تسلسل تھا۔امریکانے انہیں خلاف ورزی قراردیا،جبکہ ایران نے جوابی کارروائیوں کادفاع کیا۔یوں الزام اورجواب کاایک ایساسلسلہ شروع ہواجس میں حقیقت دھندلا گئی اورطاقت کااظہارنمایاں ہوگیا۔ان واقعات نے نہ صرف معاہدے کی کمزوری کوظاہرکیابلکہ یہ بھی ثابت کیاکہ زمینی حقیقتیں کاغذی معاہدوں سے زیادہ طاقتورہوتی ہیں۔ یہ سلسلہ ہمیں یہ سکھاتاہے کہ عالمی سیاست میں کوئی واقعہ تنہانہیں ہوتابلکہ ہرواقعہ ایک بڑی کہانی کاحصہ ہوتاہے۔
دنیاکی معیشت ایک پیچیدہ جال ہے،اورآبنائے ہرمزاس جال کامرکزی گرہ ہے۔اگرعالمی معیشت کوایک زندہ وجودسمجھاجائے توآبنائے ہرمزاس کی وہ رگ ہے جس میں توانائی کی روانی جاری رہتی ہے۔یہاں سے گزرنے والاہرقطرہ تیل، گیس کی ہرلہر،محض ایندھن نہیں بلکہ عالمی ترقی کی بنیادہے اوردنیاکے مختلف حصوں میں زندگی کی رفتارکوبرقراررکھتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس راستے میں معمولی خلل بھی عالمی سطح پرشدید اثرات مرتب کرتاہے۔ دنیاکے تیل کاپانچواں حصہ اس تنگ راستے سے گزرتاہے، محض اعدادنہیں،بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔اس کاتنگ ہوناہی اس کی اہمیت کاسبب ہے،کیونکہ جہاں راستہ محدود ہو،وہاں کنٹرول کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ییی ہوجہ ہے کہ اس راستے میں معمولی خلل بھی عالمی منڈیوں میں ایسازلزلہ برپاکردیتاہے جوعالمی جغرافیہ،معیشت،خطرات اورعالمی تقدیرکوکھنڈرات میں تبدیل کرسکتاہے۔
یہ آبنائے ہرمزایران،عمان اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان واقع ہے،ایک ایسامقام جہاں زمین اورسمندرایک دوسرے کے قریب آکر عالمی تجارت کوراستہ دیتے ہیں۔یہ آبنائے ہرمزاپنی تنگی میں ایک عجیب وسعت رکھتی ہے اوریہی تنگی ہی اس کی پوشیدہ طاقت ہے، اس کی گہرائی،اس کے مخصوص راستے اسے ایک ایساچُوک پوائنٹ بنادیتے ہیں جہاں ایک چھوٹی سی رکاوٹ بھی عالمی بحران میں بدل سکتی ہے۔یہاں ہرجہازایک مخصوص راستیسیگزرتاہے،اوریہی محدودیت اسیایک ایسامقام بناتی ہے جہاں کنٹرول کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
اس کے اطراف کے ممالک اسیایک ایسامقام بناتیہیں جہاں جغرافیہ خودسیاست بن جاتاہے۔یہ جغرافیہ گویاایک ایساخاموش کردارہے جو عالمی سیاست کے ہرمنظرمیں اپنااثردکھاتا ہے۔یہ ایک ایسی سمندری راہ گزرہے جہاں سے گزرنے والاہرجہازعالمی سیاست کاحصہ بن جاتا ہے۔
یہاں سے گزرنیوالی توانائی دراصل دنیاکی معیشت کی نبض ہے۔اس کی روانی میں تسلسل کامطلب استحکام ہے،اوراس میں رکاوٹ کا مطلب بحران۔ یہی وہ حقیقت ہے جواس آبنائے کوعالمی اہمیت کاحامل بناتی ہے،روزانہ کروڑوں بیرل تیل اوراربوں مکعب فٹ گیس کا گزراس بات کاثبوت ہے کہ آبنائے ہرمزمحض ایک راستہ نہیں بلکہ توانائی کاعالمی مرکز ہے۔یہاں بہنے والی توانائی دراصل دنیاکی معیشت کوحرکت دیتی ہے۔ایشیا،خصوصاچین،اس پرسب سے زیادہ انحصارکرتاہے گویایہ راستہ مشرقی معیشتوں کی زندگی کاضامن ہے ۔صرف تیل ہی نہیں،بلکہ دیگرضروری اشیا،کھاد،خوراک،ادویات اورصنعتی سامان بھی اسی راستے سے گزرتاہے۔یوں یہ آبنائے انسانی زندگی کے ہرپہلوسے جڑی ہوئی ہے۔ خوراک،ادویات،اورصنعتی سامان سب اسی سے وابستہ ہیں۔یوں یہ آبنائے ہرمززندگی کے ہرپہلو سے جڑی ہوئی ہے اوراس کی بندش صرف معیشت نہیں بلکہ انسانی بقاکوبھی متاثر کرسکتی ہے۔
جب کشیدگی بڑھتی ہے توخطرات بھی بڑھتے ہیں۔یہ خطرات صرف عسکری نہیں بلکہ معاشی اورنفسیاتی بھی ہوتے ہیں۔یہاں ہرجہاز ایک غیریقینی صورتحال کاسامناکرتاہے، اور یہی غیریقینی عالمی نظام کومتاثرکرتی ہے۔ڈرون،میزائل،بارودی سرنگیں اورجنگی کشتیاں یہ سب اس راستے کوایک ممکنہ خطرناک جنگی میدان میں بدل دیتے ہیں۔یہاں جنگ کا مطلب صرف فوجی تصادم نہیں بلکہ عالمی نظام کاعدم استحکام ہے۔ایک حملہ نہ صرف ایک جہازبلکہ پوری عالمی معیشت کومتاثرکرسکتاہے۔
جب خطرہ بڑھتاہے توجہاں اعتمادکم ہوتاہے وہاں جہازرانی کی انشورنس مہنگی ہونے سے سفرکی لاگت بڑھ جاتی ہے،اورتجارت سست پڑجاتی ہے۔انشورنس کمپنیوں کاعدم اعتماد دراصل عالمی معیشت کیلئے ایک خاموش خطرہ ہے۔انشورنس کے نرخوں میں اضافہ دراصل اس خوف کی عکاسی کرتاہے جوسمندرکی گہرائیوں میں نہیں بلکہ انسانی ذہنوں میں پیداہوتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں جنگ کااثرمیدانِ جنگ سے نکل کربازارتک پہنچ جاتاہے۔
ایشیامیں ایندھن کی قلت،یورپ میں راشننگ،افریقہ میں بجلی کی پابندیاںیہ سب اس بات کاثبوت ہیں کہ آبنائے ہرمزکابحران مقامی نہیں بلکہ عالمی ہے۔یہ بحران کسی ایک خطے تک محدودنہیں رہتابلکہ پوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لے لیتاہے۔ہرملک،ہرمعیشت اس کے اثرات محسوس کرتی ہے،چاہے وہ براہِ راست اس سے وابستہ ہویانہیں۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جوسرحدوں سے ماوراہے۔پائپ لائنزاورمتبادل بندرگاہیں اورراستے موجودہیں،مگران کی صلاحیت محدودہے۔وہ مکمل حل نہیں۔وہ صرف ایک عارضی سہارافراہم کرتے ہیں،اصل انحصاراب بھی اسی آبنائے ہرمزپرہے۔وہ اس خلاکومکمل طورپرنہیں کرسکتیں جوآبنائے ہرمزکی بندش پیداکرسکتی ہے۔ یہ راستہ اب بھی ناگزیرہے۔
آبنائے ہرمزصرف پانی کی پٹی نہیں ہے بلکہ انسانیت کی اجتماعی تقدیر کااستعارہ ہے۔یہاں، طاقت اورضرورت،سیاست اورمعاشیات، خوف اورامید-سب ایک دوسرے سے
ملتے ہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں ایک چھوٹاسافیصلہ عالمی سطح پرزلزلہ بن سکتاہے۔اگریہاں امن قائم رہتاہے تودنیاکی معیشت سانس لیتی ہے،اوراگریہاں کشیدگی بڑھتی ہے تواس کی گونج ہربراعظم میں سنائی دیتی ہے۔یوں کہاجاسکتاہے کہ آبنائے ہرمزدراصل دنیاکاآئینہ ہیجہاں ہم اپنی طاقت،اپنی کمزوری،اوراپنے مستقبل کوایک ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمزدراصل ایک سوال اورامتحان ہے، ایک ایساسوال جودنیاسے پوچھتاہے کہ کیا طاقت اورتعاون ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں؟اور امتحان اس لئے ہے کہ یہ ایساامتحان جس میں دنیاکویہ ثابت کرناہے کہ کیاوہ طاقت کوتوازن میں بدل سکتی ہے یانہیں۔کیاعالمی مفادات اور علاقائی خودمختاری میں توازن ممکن ہے؟اس وقت آبنائے ہرمزانسان اورطاقت کے درمیان ایک آزمائش بن چکی ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں ہرفیصلہ ایک نئی تاریخ رقم کرتاہے،اورہرغلطی ایک نیابحران جنم دیتی ہے۔اگردنیا نے اس مقام کی نزاکت کوسمجھ لیاتویہ راستہ امن،تعاون اورترقی کی علامت بن سکتاہے؛اوراگرنہیںتویہی آبنائے ہرمزآنے والے طوفانوں کی پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔یادرکھیں!یہ آبنائے ہرمزآنے والے زمانوں میں ایک ایسی داستان بن جائے گی جسے تاریخ حسرت اورافسوس کے ساتھ بیان کرے گی۔