غلام علی جاوید
پچھلے دنوں ایک دوست کی بیٹی کی وفات پر اُس کے آبائی گائوں فاتحہ خوانی کی غرض سے جانا پڑا۔ لاہور سیالکوٹ موٹر وے پرلاہور سے نکلتے ہی کچھ دور چلتے ہی راستے میں پنڈی داس انٹر چینج آیا۔ انٹر چینج کے پہلو میں ایک انتہائی خوبصورت مسجدجس کا مینارابھی زیر تعمیر تھا، نظر آئی۔مسجد کی خوب صورت بناوٹ دیکھنے والوں کا دل کھینچتی تھی۔ جمعہ کا دن تھا۔وقت ِنمازہونے کی بدولت ہم دوست بھی وہاںجمعہ کی نماز کے لئے جا پہنچے۔ دیدہ زیب مسجددیکھ کر دل کو تسکین ہوئی ، آنکھوں کو ٹھنڈک محسوس ہونے لگی۔مسجد کے بائیں نکڑپر بہترین غسل خانے اوربیت الخلاء جبکہ صدر دروازے کے سامنے سرسبزدالان بنا ہوا تھاجس کا سبزہ آنے والوں کو مسحورکر رہا تھا۔دالان کے کناروں پر چھوٹے چھوٹے سایہ دار درخت لگے ہوئے تھے جن کے سائے میں روایتیطرز کی چارپائیاں شاید مسافروں کے آرام کے لئے رکھی گئی تھیں ۔جن پر مسافرخواتین بیٹھی تھیں ۔ دالان کی اگلی طرف پیازکی فصل اور دوسری جانب تمباکو کے چوڑے چوڑے سبز پتے اپنے پورے جوبن پر تھے۔کچھ مردوزن اپنے بچوں سمیت تصاویر اور سیلفیز بنا رہے تھے۔دروازے سے لیکر مسجدکے ھال تک کارپٹ بچھا ہوا تھا جیسے جیسے کارپٹ پر چلتے ہوئے مسجد کے ھال کی طرف بڑھ رہے تھے ۔کارپٹ کی نرمی ایسے محسوس ہوتی تھی جیسے پائوں کے بوسے لے رہی ہو۔ نماز جمعہ میں زیادہ تر مسافر لوگ شامل تھے۔کچھ مقامی لوگ بھی نماز ادا کرنے آئے ہوئے تھے۔ مسجد میں فرشی پنکھوں کی بھوں بھوں ماحول میںمنفرد سریلا سماں باندھ رہی تھی۔امام مسجد کی قرأت تو ایسے تھی جیسے مسجد نبوی سے کوئی پیغام آرہا ہو ۔امام صاحب کی لحن ِ لسان نے فضا کو معطر کر دیاتھا۔ بندہ نا چیز کوان سے مصافحہ کرنے کا شرف بھی حاصل ہو گیا۔
نماز کی ادائیگی کے بعد جب باہر نکلے توخوب صورت ہوا کے جھونکے دُور تک نظر دوڑانے کی دعوت دے رہے تھے۔جہاںتک نظر گئی وہاں تک گندم کی پکی فصل انگڑائیاں لیتی نظر آئی۔ہوا کے جھونکوں نے نہ صرف گندم کی فصل کو جھومنے پر مجبور کیاہوا تھا بلکہ دالان میں موجود خواتین کے رنگ برنگے دوپٹے بھی محوِ رقص تھے۔اجنبی ہوانے مسافر بچوںکے دل بہلا دیے تھے جواِدھر اُدھر کواٹکھیلیوںمیں مصروف تھے۔نمازی خراماں خراماںباہر کی طرف رواں تھے ۔ میری دائیں جانب انتہائی نفیس طبیعت کے مالک فرشتہ صفت انسان میرے بھائیوں جیسے دوست ذاکر حسین میرے ساتھ چل رہے تھے ۔ میں نے اُن کی طرف دیکھا تو ان کے چہرے پر تسکین کی ایک عجیب سے لہر دوڑ رہی تھی۔میرے منہ سے بے ساختہنکل گیا کہ کتنا پر سکون ماحول ہے۔ انھوں نے بلاتوقف ایسے جیسے غصے میںکہا ہو’’یہ بہت جلد واپس دیہاتوں کو بھاگیں گے‘‘۔
ذاکر صاحب کے اس جملے نے مجھے شہرکی مصنوعی زندگی اور دیہات کی خالص فضائوں میں الجھا دیا۔میں تخیل کی دنیا میں ڈوب گیا۔بچپن کی دلدل میں پھنس گیا۔ ترکھان کی بنی ہوئی لکڑی کی ریڑھی صدادینے لگی ۔گرمیوں کی چھٹیوں کا کام دکھائی دینے لگا۔کھالے میں ٹیوب ویل کا بہتا پانی دل گدگدانیلگا۔بہتے پانی کو چھوتے ہوئے گھاس کی ٹہنیوں نے پرلطف زندگی کا زمانہ یاد کرایا۔ شیشم میں باندھی پینگ کے جھولے ستانے لگے۔تندور کی مکھنی روٹیوںکی خوشبو آنے لگی۔ وہ دوست بھی یاد آیا جس کو شہر کے جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری نے دبوچ لیا تھا، جو رنگ برنگی بتیوں کا شکار ہو گیا تھا، جس کو زندگی میں تیز دوڑنے کاشوق لگ گیا تھا،جس کولامحدود خواہشوں نے اپنے حصار میں لے لیاتھا۔ وہ اپنا متاع گم گشتہ تلاش کرنے میں مگن ہو گیا تھا۔
پھر یوں ہوا کہ وہ دوست سہولیاتِ زندگی کی تلاش میں شہر کی مصروف گلیوں میں گم ہو گیا۔ حصول ِرزق و دولت نے اُسے غافل کر دیا۔پرانے دوست بھولتے گئے۔ سچے رشتے ٹوٹتے گئے۔ اپنے بیگانے ہوتے گئے۔حکومتی شہنائیوںاور رعنائیوں میں بھٹکتا گیا۔چمکتے چہروں کی جھلک میںبینائی مدھم پڑ گئی۔حالات نے پھر سے کروٹ بدلی۔ زندگی کے اہداف سامنے آ کھڑے ہوئے ۔حیات ِمجبور کی ذمہ داریوں نے نقارے بجانا شروع کر دیے۔ اولاد جوان بھی ہو ئیِ منہ زوربھی ہوئی ۔قابل اعتماد داماد کہاں سے لائے۔کون ہے جو نئے بندھن اپنائے۔کون ہے جو عمر بھر کا ساتھ نبھائے۔ دختر نیک اخترکس کے ساتھبیاہے۔ خوابوں کی تعبیر نہ ہوئی ، رشتوں کی تدبیر نہ ہوئی۔نہ تعویزوں میں اثر رہا ،نہ اپناکچا گھر رہا، نہ اپنوں کا در رہا۔ عاجز عقل ھل من ناصر ینصرنا کی صدا دینے لگی ۔فاسٹ فوڈ سے تنگ دوست کو گرم گُڑ، شکر، چاٹی کی لسی، دودھ کی ملائی اور گائوں کی دائی یاد آنے لگی۔ شہر کی بے ہنگم ٹریفک کا شور گائوں کی خالی سڑکوں پر لے آیا۔ پارکوںنے گائوں کے اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن یاد کرائے۔ کلبوں نے بچپن کا گلی ڈنڈا، کبڈی، کشتی اور چھپن چھپائی یاد دلائی۔ ڈھلتی شام میں والی بال کی ٹھک ٹھک ستانے لگی ۔آٹے والی چکی کی ٹھوہ ٹھوہ بلانے لگی۔مشرق سے نکلتے سورج کی کرنوں نے پیغام وفا دیا۔ڈھلتے شمس کی سرخی نے دل دہلا دیا۔بے سمت سفر کی طوالت نے تھکا دیا ۔شہر کی مہنگی قبر نے ہاتھ ہلایا، اسے پاس بلایا اوراپنے تنگ ہونے کااحساس دلایا۔ دوست نے اپناسامان سمیٹا ،صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹا۔