حافظ عبدالغفار روپڑی
قومیں صرف جغرافیے سے نہیں بنتیں بلکہ قومیں کردار اور عمل سے بنتی ہیں اور کردار کی بنیاد عدل و انصاف پر رکھی جاتی ہے۔ جہاں انصاف طاقتور کی جاگیر بن جائے، وہاں ریاست محض ایک انتظامی اور نمائشی ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے۔ اسلام نے عدل وانصاف کو عبادت کا درجہ دیا ہے اور انصاف کو ایمان کی عملی شکل قرار دیا ہے ، جبکہ انسانیت نے عدل وانصاف کو اپنی بقا کی آخری امید سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدل و انصاف اسلامی اور انسانی اقدار کا وہ حسین امتزاج ہے جو اگر ٹوٹ جائے تو معاشرہ بکھر کر رہ جاتا ہے اور ریاست نشان عبرت بن جاتی ہے۔
اسلام کا تصورِ عدل کسی وقتی جذبات یا مصلحت کے تابع نہیں۔ یہ وہ اصول ہے جو دوست اور دشمن، امیر اور غریب، حاکم اور محکوم ، آجر اور اجیر ، غلام اور آقا ، سب کے لیے یکساں ہے۔ اسلام واضح کرتا ہے کہ انصاف میں رشتہ داری، ذاتی مفاد، سیاسی وابستگی اور گروہی تعصب کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہی وہ اصول ہے جو ہمیں آج سب سے زیادہ درکار ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں انصاف اکثر طاقت ، دولت اور سفارش کے وزن سے تولا جاتا ہے حق اور سچ کے معیار سے نہیں۔
پاکستانی معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں عدل و انصاف کا سب سے زیادہ فقدان ہے۔ تھانے سے کچہری تک، پٹوارخانے سے عدالتِ عظمیٰ تک عام آدمی برسوں کی ٹھوکریں کھا کر بھی حق اور انصاف پر مبنی فیصلہ حاصل نہیں کر پاتا جبکہ بااثر طبقہ قانون کو اپنے قدموں میں گھسیٹتا اور نوچتا نظر آتا ہے۔یہ وہ طبقہ ہے جس کے قدموں میں قانون سرجھکائے اور ہاتھ باندھے کھڑا رہتا ہے اسلام اس طبقاتی انصاف کی نفی کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ انصاف میں تاخیر بھی ظلم اور ناانصافی کے مترادف ہے۔
ہم آئے دن اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ ایک غریب باپ اپنی بیٹی کے ساتھ زیادتی کے خلاف دہائی دیتا رہا مگر طاقتور ملزمان آزاد گھومتے رہے، یہاں تک کہ مظلوم خاندان مایوسی میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا اور مظلوم بیٹی خود کشی پر مجبور ہوجاتی ہے۔ یہ محض ایک خبر نہیں ایک تلخ حقیقت ہے جو یہ ہمارے نظام عدل ، اسلامی اقدار اور اجتماعی ضمیر پر سوالیہ نشان ہے۔ اسلامی انصاف ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مظلوم کی آہ اگر آسمان تک پہنچ جائے تو کسی عدالت، کسی ایوان اور کسی اقتدار کو نہیں بخشتی۔
اسلامی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عدل محض عدالت کا فیصلہ نہیں بلکہ ریاستی رویہ ہوتا ہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں حکمرانوں کے احتساب کی مثالیں آج بھی زندہ ہیں۔جب حج کا زمانہ قریب آتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گورنروں کو مکہ میں طلب فرماتے جب وہ جمع ہوجاتے تو آپ لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرماتے ’’ اے لوگو! میں نے اپنے عامل اسلئے تم پر مقرر نہیں کیے کہ وہ تمہاری کھال اتاریں ، تمہارے مال چھینیں اور ناانصافی کریں میں نے ان کا تقرر اس لیے کیا ہے کہ تاکہ وہ تمہارے درمیان عدل وانصاف کریں۔ اگر کسی شخص کے ساتھ میرے عامل نے ناانصافی کی ہے تو وہ کھڑے ہوکر اپنی شکایت بیان کرے۔ حاضرین میں سے اگر کوئی شخص کسی گورنر کی شکایت کرتا تو سارے مجمع کے سامنے گورنر کی باز پرس کی جاتی اور اسی و قت شکایت کا ازالہ کیا جاتا۔پاکستان میں اگر احتساب کا یہی معیار اپنایا جائے تو یقینا اقتدار اور منصب قضا پر بیٹھنے والے اور قومی وسائل لوٹنے والے خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھیں۔ بدقسمتی سے یہاں احتساب اکثر سیاسی انتقام اور انصاف سیاسی مفاہمت کا شکار ہو جاتا ہے۔
پاکستانی سیاست میں انصاف کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ قانون افراد کے لیے بدل جاتا ہے اور اصول جماعتوں کے مفاد پر قربان ہو جاتے ہیں۔ ایک ہی جرم پر ایک کو رعایت اور دوسرے کو سزا ملے تو یہ انصاف نہیں بلکہ ناانصافی اور طاقت کی نمائش ہے۔ اسلام اس دوہرے معیار کو رتسلیم نہیں کرتا بلکہ ظلم قرار دیتا ہے اور یہی پیغام انسانیت کی اجتماعی عقل بھی دیتی ہے۔معاشی انصاف کے بغیر سماجی عدل ممکن نہیں۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ ٹیکس کا سارا بوجھ سفید پوش ، غریب اور تنخواہ دار طبقے پر ہے جبکہ اشرافیہ کے لیے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ اسلام واضح کرتا ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں گردش نہ کرے، بلکہ معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچے۔ یہی اصول انسانی فلاحی ریاست کی بنیاد بھی ہے، مگر پاکستان میں یہ محض کتابی اور انتخابی نعرہ بنا دیا گیا ہے۔
عدلیہ کسی بھی ریاست میں انصاف کی آخری امید ہوتی ہے۔ پاکستان میں عدلیہ نے بعض اوقات جرات مندانہ فیصلے دے کر امید کی شمعیں بھی روشن کی ہیں ، مگر مجموعی طور پر انصاف کی فراہمی میں عدلیہ کا معیار کبھی بھی قابل فخر نہیں رہا ہے۔ انصاف کی تاخیر نے ہمیشہ عوام اور قوم کے اعتماد کو مجروح کیا ہے۔مقدمات نسلوں تک چلتے ہیں اور مقدمات کی سماعت میں اتنی طوالت کی جاتی ہے کہ فیصلہ آنے سے پہلے ہی انصاف مر جاتا ہے۔ اسلام کا تصور ِ عدل یہ ہے کہ فوری اور موثر انصاف کیا جائے نہ کہ تاریخ کے اوراق میں دفن فیصلوں کا۔
عدل کے باب میں میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں عدل اکثر ریٹنگ، مفاد اور دباؤ کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ اسلام سچ کو عدل کی بنیاد قرار دیتا ہے کیونکہ جھوٹ پر کھڑا نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ جب خبر طاقتور کے حق میں اور مظلوم کے خلاف بننے لگے تو معاشرہ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔
بطور مسلمان اور بطور پاکستانی شہری یہ بات سمجھنے کی ہے کہ عدل و انصاف کا تعلق صرف ریاست سے نہیں بلکہ فرد سے بھی ہے۔ جب والدین اولاد میں انصاف نہیں کرتے، استاد طالب علم کے ساتھ تعصب برتتا ہے، افسر ماتحت کو ذلیل کرتا ہے اور تاجر ناپ تول میں کمی کرتا ہے تو یہ سب چھوٹے چھوٹے ظلم مل کر بڑے سماجی بحران اور ناانصافی کو جنم دیتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ انصاف روزمرہ زندگی کا حصہ ہو، نہ کہ صرف عدالت کی فائلوں میں قید ایک ایسی ڈگڈگی کہ جسے جب چاہا نکال لیا اور جب چاہا ڈربے میں بند کردیا۔اسلام ہمیں ہر حال میں سچ بولنے ، سچ تولنے اور عدل وانصاف کرنے کا حکم دیتا ہے۔
آج پاکستان کو جن بحرانوں کا سامنا ہے، ان کا حل نئے نعروں یا نئے چہروں کی تلاش میں نہیں بلکہ عدل و انصاف کے عملی نفاذ میں اور ہر حال میں سچ کا ساتھ دینے میں ہے۔ اگر قانون واقعی سب کے لیے برابر ہو جائے، احتساب بے لاگ ہو، فیصلے بروقت ہوں اور طاقت کو حق کے تابع کر دیا جائے تو ہمارا ملک ترقی، امن اور وقار کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یاد رکھنا چاہئے کہ ملک کفر
کے ساتھ تو قائم رہ سکتے ہیں نظام ظلم کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتے۔ ہمارے ملک میں اس وقت اگر کوئی چیز سب سے بے وقعت ، سب سے مظلوم اور بے یارومددگار ہے تو وہ ’’ انصاف ‘‘ ہے۔ انصاف جو کبھی سب سے بڑی طاقت تھا وہ آج راستے کا بے وقعت پتھر بن چکا ہے جو بھی طاقتور آتا ہے وہ ٹھوکر مارتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے اپنے حکمرانوں اور منصب قضا پر فائز عزت ماٰب جج صاحبان سے کہنا چاہوں گا کہ عدل و انصاف کوئی مغربی یا مشرقی تصور نہیںیہ اسلام اور انسانیت کی مشترکہ زبان ہے۔ جہاں یہ زبان بولی جاتی ہے وہاں ریاست مضبوط اور معاشرہ زندہ رہتا ہے جہاں اسے خاموش کر دیا جائے وہاں اندھیرا چھا جاتا اور ظلم شور مچاتا ہے۔ انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے یا ہم انصاف کو اختیار کریںیا تاریخ کے کٹہرے میں خود کو بطور مجرم کھڑا پائیں۔
کسی ایسے ہی موقع کیلئے شاعر نے کہا تھا
جہاں انصاف بکتا ہو وہاں امن نہیں رہتا
جہاں حق دبایا جائے وہاں وطن نہیں رہتا