سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
آبنائے ہرمزتاریخ کے دریامیں ایک باریک مگرفیصلہ کن دھارا،تاریخی ارتقااورطاقت کی کشمکش اورتلاطمِ کاایک ایسانازک موڑہے ،جہاں جغرافیہ تقدیربن جاتاہے۔انسانی تاریخ کے طویل سفرمیں بعض مقامات ایسے ابھرتے ہیں جواپنی جسامت میں چھوٹے مگراپنے اثرات میں وسیع ترکائنات کے ہم پلہ اوردنیا کے نقشے پرایسے ہوتے ہیں جومحض خطِ فاصل نہیں بلکہ تاریخ کے دھارے کوموڑدینے والی قوت رکھتے ہیں۔بحرِ ہندکی وسعتوں اورخلیجِ فارس کی خاموش لہروں کے درمیان آبنائے ہرمز اسی قبیل کا ایک نادر نمونہ اورایک باریک مگرفیصلہ کن درزہے،ایک ایسامقام جہاں پانی کی ایک تنگ لکیر،زمانے کی وسعتوں کواپنے اندرسمیٹ لیتی ہے۔
ایک تنگ ساآبی راستہ،مگرمعنویت میں ایک وسیع سمندر۔یہ وہ مقام ہے جہاں زمین کی ساخت،قدرت کے اسرار،اورانسانی حرص و اختیارکی داستانیں ایک دوسرے میں یوں مدغم ہوجاتی ہیں کہ حقیقت اورعلامت میں فرق مٹنے لگتاہے۔یہ محض پانی کاایک راستہ نہیں، بلکہ تہذیبوں کی سانس،معیشتوں کی نبض،اورعالمی سیاست کی وہ گردن ہے جہاں ہاتھ ڈالنے کامطلب پوری دنیاکی دھڑکن کوگرفت میں لیناہے۔یہاں لہریں صرف ساحلوں سے نہیں ٹکراتیں بلکہ سلطنتوں کے ارادوں،معیشتوں کے توازن اورتہذیبوں کے تسلسل سے ہم آہنگ ہو کرایک ایسی موسیقی ترتیب دیتی ہیں جس کی گونج دوردرازبراعظموں تک سنائی دیتی ہے۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جہاں کہیں وسائل کی رگیں گزرتی ہیں،وہاں طاقت کے پنجے بھی ضرورپہنچتے ہیں۔آبنائے ہرمزاسی اصول کی جیتی جاگتی مثال ہے،ایک ایسامقام جہاں جغرافیہ،معیشت،عسکری حکمتِ عملی اورعالمی سیاست ایک دوسرے میں یوں لفظ ومعنی کی طرح گندھ جاتے ہیں۔یہ ایک ایسادروازہ ہے جس سے گزرے بغیرعالمی معیشت کی گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی۔یہاں سے گزرنے والا ہرجہازمحض سامان نہیں لے جاتابلکہ دنیاکے مختلف حصوں کی امیدوں،ضرورتوں اورخوابوں کواپنے ساتھ بہالے جاتاہے۔
اگر دنیاکوایک جسم تصورکیاجائے توآبنائے ہرمزاس کی شہ رگ ہے ،ایسی رگ جس میں توانائی کی روانی جاری رہے توحیات کاتسلسل برقراررہتاہے،اوراگر اس میں رکاوٹ آجائے توپورا نظام لرزاٹھتاہے۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے،نگاہیں اسی مقام پرآکرٹھہرجاتی ہیں۔اسی لیے جب یہاں اضطراب پیداہوتاہے تواس کی بازگشت عالمی نظام کے ہرگوشے میں محسوس کی جاتی ہے، آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک مقام ہے۔
امریکااورایران کے درمیان جاری کشمکش ایک سطحی تصادم نہیں بلکہ تہہ درتہہ تاریخ کانتیجہ ہے ،امریکااورایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی داستان نہیں؛یہ ایک طویل تاریخی بیانیہ ہے جس کی جڑیں انقلابِ ایران سے لے کرمشرقِ وسطی کی بدلتی ہوئی سیاست تک پھیلی ہوئی ہیں۔ایسی تاریخ جس میں انقلاب،نظریات،طاقت اورخوف ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں۔مگرحالیہ حالات میں اس کشیدگی نے ایک نئی جہت اختیارکرلی ہے ،ایک ایسی جہت جس میں زمین نہیں بلکہ سمندرمیدانِ کارزاربن چکاہے۔
امریکااورایران کے درمیان جاری کشیدگی اب محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عملی جنگ کی شکل اختیارکرلی ہے۔امریکی پالیسی سازوں کے نزدیک ایران کی بحری صلاحیت صرف دفاعی نہیں بلکہ ایک ایساہتھیارہے جوعالمی تجارت کویرغمال بناسکتاہے۔اس کشیدگی کاحالیہ مرحلہ اس وقت اوربھی معنی خیزہوجاتاہے جب اس کامرکززمین سے ہٹ کرسمندرکی وسعتوں میں منتقل ہوجاتاہے۔اسی لیے واشنگٹن نے اپنی توجہ براہِ راست ایران کے ساحلی علاقوں پرمرکوزکردی ہیوہ علاقے جہاں سے نہ صرف جہازگزرتے ہیں بلکہ طاقت کے توازن کاتعین بھی ہوتاہے۔
حالیہ دنوں میں امریکی کارروائیوں کامحورایران کے ساحلی علاقے بن چکے ہیںوہ علاقے جونہ صرف جغرافیائی لحاظ سے حساس ہیں بلکہ عالمی تجارت کے دروازے بھی انہی سے کھلتے ہیں۔یہاں اب توپوں کی گھن گرج کے بجائے جہازوں کی نقل وحرکت،ڈرونز کی پروازیں،اورساحلی تنصیبات کی خاموشی بولتی ہے۔امریکا کیلئے یہ مسئلہ عالمی نظام کی حفاظت کاہے،جبکہ ایران کیلئے یہ اپنی خودمختاری اورعلاقائی شناخت کاسوال بن چکاہے۔یوں دونوں ریاستیں ایک ایسے مقام پرآکھڑی ہوئی ہیں جہاں ہرقدم نہ صرف موجودہ حالات بلکہ آنے والے وقت کی سمت کاتعین بھی کرتاہے۔واشنگٹن کی حکمتِ عملی بظاہریہ ہے کہ ایران کی بحری طاقت اوراس کی تجارتی جہازرانی پراثراندازہونے کی صلاحیت کومحدود کیاجائے ، تاکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی روانی بلاتعطل جاری رہے۔
حالیہ عسکری کارروائیاں محض طاقت کیاظہارکا ذریعہ نہیں بلکہ ایک گہری حکمتِ عملی کاحصہ ہیں۔جب ساحلی علاقوں کونشانہ بنایا جاتا ہے تودراصل اس نظام کومتاثرکیاجاتاہے جو سمندر اورزمین کے درمیان ایک پل کاکام کرتاہے۔امریکی سینٹرل کمانڈکی جانب سے 13جولائی کوطاقت کاخاموش مگرگونجتا ہوااعلان اورمکمل کی جانے والی کارروائی محض ایک عسکری آپریشن نہیں تھی بلکہ ایک محدودمگرایک علامتی پیغام بھی تھی۔ایک ایساپیغام جس میں بارودکی گھن گرج سے زیادہ سیاسی معنویت پوشیدہ تھی۔
یہ حملے گویاایک خاموش اعلان ہیں کہ جنگ اب روایتی میدانوں تک محدودنہیں رہی بلکہ اس نیاپنے دائرے کووسعت دے کران مقامات کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیاہے جہاں سے زندگی کی روانی برقراررہتی ہے۔ان کارروائیوں کے ذریعے یہ پیغام دیاگیاکہ سمندر کی سطح پرموجودہرحرکت اب عالمی نگرانی میں ہے۔پانچ گھنٹوں پرمحیط اس کارروائی میں جن مقامات کونشانہ بنایاگیا،وہ محض جغرافیائی نقاط نہیں بلکہ ایران کی بحری خودمختاری کے ستون تھے۔بوشہرسے بندرعباس تک،چابہارسے جاسک تک،ایرانی ساحلوں پر حملوں کی ایک ایسی لہردوڑی جس نے نہ صرف عسکری تنصیبات کونشانہ بنایابلکہ ایک واضح پیغام بھی دیا:سمندراب خاموش نہیں رہا ۔ان حملوں میں میزائل سسٹمز،ڈرون تنصیبات اورساحلی دفاعی ڈھانچے کونشانہ بنایاگیایعنی وہ تمام عناصرجوایران کوسمندرمیں اپنی موجودگی مؤثربنانے کی قوت دیتے ہیں۔بوشہرکی بندرگاہ،جہاں سے توانائی کی داستانیں جنم لیتی ہیں؛چابہار، جوایران کابحیرہ عمان سے رابطہ ہے؛اوربندرعباس،جواس کابحری دل ہیان سب کونشانہ بناکرامریکانے گویایہ واضح کردیاکہ اس کی نظرصرف موجودہ صورتحال پرنہیں بلکہ مستقبل کے ممکنہ توازنِ طاقت پربھی ہے۔
جب محافظت کومعاشی قدرسے جوڑاجاتاہے توطاقت اورمعاشیات کے امتزاج کاایک نیانظریہ جنم لیتاہے ،ایسانظریہ جس میں سلامتی کوایک خدمت بناکراس کی قیمت طے کی جاتی ہے۔امریکی صدرکابیان اسی تصورکاعکاس ہے،جہاں طاقت کوایک ایسے نظام میں ڈھالا جارہاہے جس میں ہرگزرنے والے جہازکوایک قیمت اداکرنی ہوگی۔یہ تصوربظاہرنظم و ضبط کاضامن معلوم ہوتاہے،مگراس کے اندر ایک ایسی طاقت کی جھلک بھی ہے جوعالمی گزرگاہوں کواپنے زیرِاثرلاناچاہتی ہے۔یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتاہے کہ کیایہ واقعی حفاظت ہے یاپھر ایک نئے معاشی تسلط کی ابتدا؟
جب امریکی صدرنے آبنائے ہرمزکیلئے خودکو’’محافظ‘‘قراردیاتویہ لفظ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک نظریہ تھاایک ایسانظریہ جس میں عالمی گزرگاہوں کوطاقت کے ذریعے منظم کرنے کاتصورشامل ہے۔امریکی صدرکایہ اعلان کہ آبنائے ہرمزسے گزرنے والے جہازوں پر20فیصدفیس عائدکی جائے گی،عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کا دروازہ کھولتاہے۔کیاامریکاواقعی محافظ ہے ،یایہ محافظت ایک نئے معاشی نظام کی بنیادہے؟سلامتی کوایک خدمت بتا کراس کی بھاری قیمت بطورجبری بھتہ وصول کرنے کی سازش ہے۔ دراصل ایک نئے عالمی معاشی ماڈل کی جھلک پیش کرتاہے،سوال یہ ہے کہ کیایہ عالمی نظم کی نئی صورت ہے،یا طاقت کے پرانے کھیل کانیانام؟
ایرانی وزیرخارجہ کاخودمختاری کابیانیہ اورتاریخی شعورسے نہایت بھرپورمعنی خیزردعمل محض ایک سفارتی،سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک تہذیبی اعلان تھا۔انہوں نے نہ صرف امریکی مؤقف کوجزوی طورپرتسلیم کیابلکہ اس بات پرزوردیاکہ اصل محافظ ایران خودہے۔وہ خودکواس خطے کامحافظ اس لیے سمجھتاہے کہ اس کی تاریخ،اس کی جغرافیائی موجودگی اوراس کی ثقافتی شناخت اس آبنائے کیساتھ جڑی ہوئی ہیایران خودکو اس خطے کافطری نگہبان سمجھتاہے،جس کی جڑیں صدیوں پرمحیط سمندری روایت اورتاریخ میں پیوست ہیں۔
یہ دعویٰ اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ ایران خودکوصرف ایک ریاست نہیں بلکہ ایک تہذیبی اکائی سمجھتاہے،جس کاحق ہے کہ وہ اپنے جغرافیائی دائرے میں ہونے والی ہرسرگرمی پر نظررکھے۔یہ مؤقف دراصل تاریخ،خودمختاری،وقارکے امتزاج کیایک ایسے شعورکی نمائندگی کرتاہے جس میں ریاست اپنی سرزمین کوصرف حدودکے طورپرنہیں بلکہ ایک امانت کے طورپردیکھتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایران اپنے کردارکومحض ایک شریک کے بجائے ایک نگران کے طورپرپیش کرتاہے۔مفاہمتی یادداشتیں اکثرامیدکی کرن بن کرسامنے آتی ہیں،مگرجب ان کے پیچھے موجودنظریات میں ہم آہنگی نہ ہوتویہ کرن جلدہی مدھم پڑجاتی ہے۔(جاری ہے)