ارشد ندیم کو بھارت آنے کی دعوت پر بھارتی انتہاپسند نیرج چوپڑا کے خلاف سرگرم

ارشد ندیم کو بھارت آنے کی دعوت پر بھارتی انتہاپسند نیرج چوپڑا کے خلاف سرگرم

پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کو بھارت میں ہونے والے نیزہ بازی کے ایونٹ میں شرکت کی دعوت دینے پر بھارتی انتہاپسند حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

بھارتی ایتھلیٹ نیرج چوپڑا نے 24 مئی کو بنگلورو میں ہونے والے ’’نیراج چوپڑا کلاسک‘‘ میں ارشد ندیم سمیت دنیا بھر کے بہترین اتھلیٹس کو مدعو کیا تھا، مگر اس فیصلے کو بھارتی میڈیا اور انتہاپسند گروپوں نے "حب الوطنی کے خلاف" قرار دے دیا۔سوشل میڈیا پر نیرج چوپڑا کو ٹرول کرنے اور ان پر الزامات لگانے کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کے بعد نیرج چوپڑا نے اپنے بیان میں کہا کہ "میری محبت اپنے ملک سے کسی سے کم نہیں، لیکن جب میرے خلوص اور خاندان پر حملے کیے جائیں گے تو میں خاموش نہیں رہوں گا۔" انہوں نے مزید کہا کہ ارشد کو دعوت دینا صرف ایک کھلاڑی کی طرف سے دوسرے کھلاڑی کے لیے کھیل کے جذبے کا مظاہرہ تھا، لیکن اب کشیدہ صورتحال کے باعث "ارشد کی شرکت ممکن نہیں رہی۔"

دلچسپ بات یہ ہے کہ ارشد ندیم نے نیرج چوپڑا کی دعوت کا شکریہ ادا کیا اور انہیں بتایا کہ ان کا سال بھر کا ٹریننگ شیڈول پہلے سے طے شدہ ہے۔ ارشد نے کہا کہ وہ اس وقت کوریا میں ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کی تیاریوں میں مصروف ہیں جو 27 مئی سے شروع ہو رہی ہے۔ ارشد ندیم مئی کے تیسرے ہفتے میں جنوبی کوریا روانہ ہوں گے اور اس دوران لاہور میں بھرپور ٹریننگ کر رہے ہیں۔اس صورتحال نے نہ صرف دونوں ملکوں کے ایتھلیٹس کے درمیان تعلقات پر اثر ڈالا بلکہ کھیلوں کی دنیا میں بھی کشیدگی کی علامات پیدا کیں، جہاں کھیل کے جذبے کو قومی تنقید اور سیاسی تناؤ سے متاثر کیا جا رہا ہے۔
4o mini