لانگ مارچ خیبرپختونخوا میں گورنرراج پر غور پنجاب میں فوج طلب
لاہور سے ایم 2پر بڑی گاڑیوں کا اسلام آباد کے لئے داخلہ بند ،بڑی گاڑیوں کو جی ٹی روڈکی طرف موڑ دیا جائے گا،ایم 2، ایم 3کی گاڑیاں کالا شاہ کاکو سے جی ٹی روڈ جائیں گی، پنجاب، سندھ سے بھی نفری طلب کر لی گئی
راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کے دستے 5 اکتوبر تک تعینات رہیں گے،راولپنڈی میں رینجرز کی 3 کمپنیوں کی تعیناتی کی درخواست ، اٹک میں رینجرز کے 5 ونگز تعینات کرنے کی سفارش کی گئی تھی
اسلام آباد،لاہور(بیورو رپورٹ ، مانیٹرنگ ڈیسک،کرائم رپورٹر )پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آبادپشاور موٹروے ،لاہور اسلام آباد موٹر وے ،اسلام آباد کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے ہیں،ہزاروں پولیس اہلکار وفاقی دارالحکومت طلب کر لئے گئے ہیں جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے خبر دار کیا ہے کہ حکومت کے پاس خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا آپشن بھی موجود ہے ،تفصیلات کے مطابق نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ موٹروے M-1 اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے ،اسی طرح موٹروے M-1 اسلام آباد ٹول پلازہ ، فتح جنگ/ ترنول انٹرچینج ، سنگجانی/AWT انٹرچینج، براہمہ باہتر انٹرچینج ، برہان انٹرچینج ، ہزارہ موٹروے انٹرچینج، غازی بھروتھا نہر انٹرچینج، چھچھ انٹرچینج بند ہیں ، موٹروے M-14 ہکلہ تا کنڈل بھی دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے ،ہکلہ،فتح جنگ انٹرچینج، پنڈی گھیپ انٹرچینج، کھڑپہ انٹرچینج، تراپ انٹرچینج، داؤد خیل انٹرچینج، کوٹ بیلیاں انٹرچینج، عیسیٰ خیل انٹرچینج، کنڈل انٹرچینج بھی بندرہیں ،اسی طرح جی ٹی روڈ N-5، اٹک خورد کے مقام پر دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے ، لاہور سے ایم 2پر بڑی گاڑیوں کا اسلام آباد داخلہ بند کر دیا جائے گا،ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق بڑی گاڑیوں کو مختلف مقامات سے جی ٹی روڈکی طرف موڑ دیا جائے گا،ایم 2، ایم 3کی گاڑیاں کالا شاہ کاکو سے جی ٹی روڈ جائیں گی۔ملتان روڈ سے آنے والی ٹریفک راوی ٹول پلازہ سے جی ٹی روڈ کی طرف جائیگی ،کوٹ پنڈی داس کی گاڑیاں شیخوپورہ انٹرچینج سے جی ٹی روڈ جائیں گی،ایم 4 کی ہیوی ٹریفک مخدوم انٹرچینج سے جی ٹی روڈ پر منتقل ہوگی ،اسلام آباد کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے بھی بند کر دئیے گئے ہیں ،محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق اضافی پولیس نفری کے لیے قیام کا انتظام سرکاری سکولوں میں کیا جا رہا ہے ، راولپنڈی میں تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے ہیں۔ادھر اسلام آباد پولیس کو 26 ستمبر کی شام تک تمام سکیورٹی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے ، 52 ہزار اہلکارتعینات کیے جائیں گے ، 30 ہزار اہلکار اٹک میں تعینات ہوں گے تاکہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکا جاسکے ،ذرائع کے مطابق مظاہرین کو منتشر نہیں کیا جائے گا ان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،ذرائع کے مطابق 6 ہزار اہلکار راولپنڈی جبکہ 16 ہزار وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں تعینات کیے جائیں گے ،اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کیلئے پنجاب سے 16 ہزاراورسندھ سے 2 ہزار اہلکار مانگے ہیں، پنجاب اور سندھ سے 3 ڈی آئی جیز، 7 ایس ایس پیز اور 18 ایس پیزبھی طلب کیے گئے ہیں،ذرائع کے مطابق مارچ سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد پولیس نے 82 کروڑ 70 لاکھ روپے طلب کئے ہیں، اسلام آباد اور اٹک کے اہم مقامات پر 2 ہزار سے زائد کنٹینرز پہنچا د ئیے گئے ، ریڈ زون کے داخلی راستوں سمیت اہم شاہراہوں پر تقریباً ایک ہزارکنٹینرز لگائے جائیں گے ،اٹک میں کنٹینرز اور ریت سے بھرے بیگز اہم راستوں اور پلوں پر رکھ دئیے گئے ہیں۔
(انٹرو۲)
اسلام آباد(بیورو رپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے پنجاب میں فوج اور رینجرز کی تعیناتی کی درخواست منظور کرلی، ذرائع کے مطابق راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کے دستے 5 اکتوبر 2026 تک تعینات رہیں گے۔ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں رینجرز کی 3 کمپنیوں کی تعیناتی کی درخواست کی گئی تھی، جبکہ اٹک میں رینجرز کے 5 ونگز تعینات کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی ایک، ایک کمپنی تعینات ہوگی۔ذرائع کے مطابق رینجرز کی تعیناتی آئین پاکستان کے آرٹیکل 245، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 4 اور 5 اور پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 کی دفعات 7 (ب) اور 10 کے تحت کی گئی ہے۔وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ پنجاب پولیس کی درخواست پر سکیورٹی میں معاونت کے لیے سیکرٹری داخلہ احمد جاوید قاضی کی جانب سے لکھا گیا تھا