شرائط پوری ہونے تک نہ آبنائے ہرمز کھلے گی نہ مذاکرات ہوں گے، ایران کا دوٹوک اعلان

شرائط پوری ہونے تک نہ آبنائے ہرمز کھلے گی نہ مذاکرات ہوں گے، ایران کا دوٹوک اعلان

تہران: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ جب تک ایران کی مقرر کردہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات بھی دوبارہ شروع نہیں کیے جائیں گے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے تنازع کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے 7 شرائط مقرر کی ہیں۔محسن رضائی کے مطابق ایران کی یہ شرائط تحریری طور پر پاکستان اور قطر کے پاس موجود ہیں اور ایران نے اپنا مؤقف ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو مذاکرات کی طرف بڑھنے کے لیے پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ سے قبل جاری مذاکراتی عمل کی طرف واپس نہیں جائے گا اور موجودہ صورتحال میں تہران کا مذاکراتی مؤقف مختلف ہے۔

آبنائے ہرمز کھولنے کو جنگ کے خاتمے سے مشروط کردیا
ایرانی عہدیدار کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ جنگ کے خاتمے اور امریکی فوجی دباؤ میں کمی سے بھی منسلک ہے۔ اس سے قبل ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا تھا کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے تو ایران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔

خطے کے ممالک کو بھی ایرانی انتباہ
محسن رضائی نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی امریکی فوجی کارروائیوں کا حصہ نہ بننے کا انتباہ دیا۔ ان کے مطابق اگر کسی ملک نے ایرانی طیاروں کو اپنی فضائی حدود یا ہوائی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے روکا تو ایران بھی ان ممالک کی فضائی سرگرمیوں کے حوالے سے جوابی اقدامات کرسکتا ہے۔ اس بیان کی بھی ایرانی میڈیا میں رپورٹ سامنے آئی ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب پر بھی تنقید کی اور اسے ایران کے خلاف امریکی مؤقف کا دفاع قرار دیا۔

امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے سے متعلق دعویٰ
محسن رضائی نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج نے پہلی مرتبہ اپنے میزائل کو امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کے اوپر سے پرواز کرنے کے قابل بنایا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع میں آبنائے ہرمز مرکزی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ یہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان ایک اہم بحری راستہ ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث اس راستے سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں جبکہ تیل کی عالمی قیمتوں پر بھی صورتحال کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔