امریکی حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز کبھی نہیں کھلے گی، ایران کا دوٹوک اعلان

امریکی حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز کبھی نہیں کھلے گی، ایران کا دوٹوک اعلان

ایران نے واضح اشارہ دیا ہے کہ جب تک امریکا کی جانب سے اس کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی، اس وقت تک آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ نہیں کھولا جائے گا، جس سے عالمی توانائی کی منڈی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق ایک اعلیٰ فوجی ذریعے نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال میں کسی قسم کی تبدیلی کا امکان نہیں، کیونکہ ایران اپنی قومی سلامتی کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔فوجی ذریعے کے مطابق ایران اس وقت کسی بھی تجارتی یا دیگر بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے اور اس سے متعلق تمام فیصلے قومی مفادات اور سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ تہران کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکا ایران کے خلاف فوجی حملے، دھمکیاں اور جارحانہ اقدامات بند نہیں کرتا، اس وقت تک آبنائے ہرمز کو کھولنے کی پالیسی پر نظرثانی نہیں کی جائے گی۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل، ایل این جی اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار خلیجی ممالک سے ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں تک پہنچائی جاتی ہے۔

 اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف عالمی تیل کی قیمتوں بلکہ بین الاقوامی تجارت اور سپلائی چین پر بھی فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔دفاعی اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہتی ہے تو عالمی توانائی کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے، تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ایران کے اس تازہ مؤقف کو خطے میں جاری ایران-امریکا کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے یا صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کرتی ہے۔