تہران: ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا تہران کی شرائط تسلیم نہیں کرتا۔
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کو اس اہم سمندری گزرگاہ پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ایرانی خبر رساں ذرائع کے مطابق بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا نے جمعے کی شام صوبہ تہران کے علاقے پیشوا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ امریکا کی جانب سے ایران کی شرائط قبول کیے جانے سے مشروط ہے۔یہ تقریب 5 جون 1963 کی تحریک کے دوران ہلاک ہونے والے کمانڈروں اور پائلٹوں کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔
ایرانی افواج پہلے سے زیادہ تیار ہیں، ترجمان
محمد اکرم نیا نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم کے بعد ایران کی فوج، پاسدارانِ انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے سے زیادہ بہتر تیاری اور صلاحیت کے ساتھ موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران ایرانی عوام کی حمایت نے بھی مسلح افواج کے حوصلے اور فوجی مورال میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج ملک کے دفاع اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم
ایرانی فوج کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 بحری جہاز اس اہم سمندری راستے سے گزرتے تھے۔ان کے مطابق ان جہازوں کے ذریعے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کے علاوہ طیاروں کا ایندھن اور کیمیائی کھادیں بھی مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی تھیں۔آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس گزرگاہ میں رکاوٹ یا اس کی بندش عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور توانائی کی سپلائی کو متاثر کرسکتی ہے۔