چین کے صدر شی جن پنگ امریکا کے 3 روزہ دورے پر پہنچ گئے، ایئرپورٹ پر پرجوش اور غیر معمولی استقبال

چین کے صدر شی جن پنگ امریکا کے 3 روزہ دورے پر پہنچ گئے، ایئرپورٹ پر پرجوش اور غیر معمولی استقبال

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کا واشنگٹن آمد پر غیر معمولی اور انتہائی پروقار انداز میں استقبال کیا۔

 تین روزہ امریکی دورے کے آغاز پر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے خود استقبال کیا۔استقبالیہ تقریب کے لیے ایئرپورٹ کے رن وے پر تقریباً 100 فٹ طویل ریڈ کارپٹ بچھایا گیا تھا۔ تقریب میں 21 رکنی اعزازی دستہ، امریکی اور چینی پرچم، فوجی دستے، امریکی فضائیہ کا بینڈ اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی شامل تھے۔ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ نے شی جن پنگ اور پینگ لی یوان سے مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو کی۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے استقبالیہ تقریب میں شرکت کی، جہاں توپوں کی رسمی سلامی بھی دی گئی۔

B-1 بمبار طیاروں کی پرواز
شی جن پنگ کے استقبال کے دوران امریکی فضائیہ کے دو B-1 بمبار طیاروں نے جوائنٹ بیس اینڈریوز کے اوپر سے پرواز کی۔ یہ طیارے امریکی فضائیہ کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار بیڑے کا حصہ ہیں۔استقبالیہ تقریب میں امریکی فوج کی مختلف سروسز کے پلاٹونز بھی موجود تھے، جبکہ امریکی اور چینی پرچم اٹھائے ہوئے رسمی دستوں نے تقریب میں شرکت کی۔ امریکی فضائیہ کے بینڈ نے پہلے رسمی دھن اور اس کے بعد دونوں ممالک کے قومی ترانے پیش کیے۔

ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان اہم مذاکرات متوقع
شی جن پنگ کا یہ دورہ 23 سے 25 ستمبر 2026 تک جاری رہنا ہے اور یہ ایک دہائی سے زائد عرصے بعد ان کا وائٹ ہاؤس کا اہم سرکاری دورہ ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ 24 ستمبر کو شی جن پنگ اور پینگ لی یوان کے اعزاز میں باضابطہ ریاستی استقبالیہ بھی دیں گے۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں میں تجارت، ٹیرف، مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات، ٹیکنالوجی، تائیوان اور ایران سمیت متعدد اہم معاملات زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان موجود تجارتی جنگ بندی اور اس سے متعلق آئندہ اقدامات بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوں گے۔

استقبال کے بعد واشنگٹن روانگی
استقبالیہ تقریب کے بعد صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ان کی گاڑی تک پہنچایا، جہاں دونوں رہنماؤں نے مختصر گفتگو کی۔ اس کے بعد شی جن پنگ موٹر کیڈ کے ذریعے واشنگٹن ڈی سی روانہ ہوگئے، جبکہ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ وائٹ ہاؤس واپس چلے گئے۔دورے کے دوران دونوں صدور کے درمیان باضابطہ مذاکرات، بند کمرے کی ملاقاتیں اور ریاستی عشائیہ سمیت مختلف تقریبات متوقع ہیں۔ چین اور امریکا کے درمیان تجارت اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد حساس معاملات کے باعث شی جن پنگ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔