عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ایک روز قبل قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے بیان کے بعد عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ اب سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہوگئی ہے۔رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 94 سینٹ، یعنی 0.9 فیصد کمی کے بعد 102.10 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 59 سینٹ، یعنی 0.7 فیصد کمی کے بعد 91.32 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل کی قیمت میں 4.06 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 113 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔

ڈیزل برآمدات پر ممکنہ پابندی زیرغور
عالمی منڈی میں سرمایہ کار امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ اسی دوران الٹرا لو سلفر ڈیزل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔یہ کمی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئی جس میں پولیٹیکو نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ 90 روز کے لیے ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے بعد میں اس رپورٹ کی تردید کردی۔دوسری جانب بلومبرگ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے منگل کی رات تیل کی صنعت سے وابستہ رہنماؤں سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ ڈیزل برآمدی پابندیوں کے لیے تیار رہنے کا کہا۔کرس رائٹ اس سے ایک روز قبل کہہ چکے تھے کہ ڈیزل کی برآمدات پر پابندی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز کی حمایت کا عندیہ دیا گیا تھا۔

ڈیزل برآمدات محدود ہونے سے عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ
تجزیہ کاروں اور مارکیٹ ماہرین کے مطابق ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے سے ضروری نہیں کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے۔ اس کے برعکس ایندھن کی عالمی دستیابی متاثر ہونے سے مختلف معیشتوں پر اضافی دباؤ اور سپلائی میں خلل پیدا ہوسکتا ہے۔

امریکی خام تیل کے ذخائر میں اضافہ
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا کے خام تیل کے ذخائر میں 30 لاکھ بیرل اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی ذخائر بڑھ کر 426.4 ملین بیرل ہوگئے۔اس کے برعکس رائٹرز کے سروے میں شامل تجزیہ کاروں نے اسی عرصے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 6 لاکھ 41 ہزار بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔ یوں جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار مارکیٹ کی توقعات کے برخلاف سامنے آئے۔تاہم اسی عرصے میں امریکا کے ایندھن کے ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس نے عالمی تیل مارکیٹ میں طلب، رسد اور آئندہ قیمتوں کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی توجہ مزید بڑھا دی ہے۔