اساتذہ ، ملازمین پریشان، پوسٹیں ختم کرنے سے کالجز کا انتظامی ڈھانچہ متاثر ہونے کا خدشہ
لاہور (زیڈاین این) محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب نے مختلف ڈویژنز کے سرکاری کالجز میں نان ٹیچنگ سٹاف کی 450 سے زائد آسامیاں ختم کر دی ہیں، جس پر اساتذہ اور ملازمین کی تنظیموں نے شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے صوبے کے مختلف اضلاع اور ڈویژنز میں قائم کالجوں سے نان ٹیچنگ عملے کی سیکڑوں پوسٹیں یکلخت ختم کر دی ہیں۔اس فیصلے پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے اساتذہ اور ایمپلائز یونینز نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ نمائندوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی تعلیمی اداروں میں عملے کی شدید قلت کی وجہ سے کام کا بوجھ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، ایسے میں مزید آسامیاں ختم کرنا انتظامی امور کو بالکل مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔ملازمین کے مطابق نان ٹیچنگ سٹاف تعلیمی اداروں کے روزمرہ انتظامی، مالی اور دفتری امور چلانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ آسامیاں ختم ہونے سے نچلے درجے کے ملازمین اور دفتری عملے کے مسائل میں ناصرف اضافہ ہوگا بلکہ اس سے کالجوں کی کارکردگی اور شفافیت بھی بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔