ایران کو جوہری بم نہیں، پرامن مقاصد کیلئے ایٹمی ٹیکنالوجی چاہیے: مسعود پزشکیان

ٹرمپ نے ایران کو دہشت گرد قرار دیا، ایران خود دہشت گردی کا نشانہ بنا ‘ ایران  سر نہیں جھکائے گا ‘ دفاع کیلئے ضروری طاقت حاصل کرنے کا حق ہے
آبنائے ہرمز کو ایران کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی ترسیل کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا:اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل پر ایران کے خلاف جنگ اور شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔خطاب کے آغاز پر ایرانی صدر نے شہید آیت اللہ خامنہ ای اور امریکی حملے میں شہید ہونے والے میناب اسکول کے بچوں کی تصاویر جنرل اسمبلی میں دکھائیں، ایرانی صدر کی تقریر کے دوران امریکی نمائندوں نے جنرل اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا نے جنگ کے دوران معصوم خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا، جبکہ اسکولوں، اسپتالوں اور شہری انفراسٹرکچر پر بھی حملے کیے گئے، ان کے بقول ایرانی صوبے لامرد میں بچوں پر کلسٹر بم بھی برسائے گئے۔ ٹرمپ نے ایران کو دہشت گرد قرار دیا، حالانکہ ایران خود دہشت گردی کا نشانہ بنا ہے۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ طاقتور ممالک ہی دنیا میں عدم استحکام اور تباہی پیدا کر رہے ہیں، جبکہ ایران اپنے اور دوسرے ممالک کے لیے عدم تحفظ نہیں چاہتا، جنگ کے میدان میں امن حاصل نہیں ہوگا۔ایرانی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری توانائی چاہیے، جوہری بم نہیں، پرامن جوہری ٹیکنالوجی ایران کی ترقی کا حصہ ہے، تاہم جوہری طاقت کے حق پر کوئی پابندی قبول نہیں کی جائے گی۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنا حق چھوڑ کر سر نہیں جھکائے گا اور ملک کو اپنے دفاع کے لیے ضروری طاقت حاصل کرنے کا حق ہے۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ اسے ایران کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق ایران کی آبنائے ہرمز تک رسائی محدود کی گئی، جبکہ دوسری جانب اسی راستے کے اطراف میزائل اور ٹیکنالوجی فراہم کی جارہی ہے۔