صدر‘وزیراعظم‘فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں پاکستان ہمارا بھائی‘عظیم دوست ایرانی صدر
ایران کے صدر کا پاکستان پہنچنے پر شاندار استقبال‘جنگی طیاروں نے سلامی دی‘گارڈ آف آنر پیش کیا گیا‘فیلڈ مارشل کی ایرانی صدر سے ملاقات میں خطے میں امن اور استحکام کیلئے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا گیا‘وفود کی سطح پر بھی ملاقاتیں
ایران کیساتھ ہر شعبے میں تعاون کو فروغ دیں گے‘یہ نہیں ہوسکتا دوسرے ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہ ہوں:شہبازشریف‘پاکستان اور ایران کے عوام کی منزل ایک ہے:مسعود پزشکیان‘مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آباد ( آن لائن‘آئی این پی ) ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے پاکستان پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا‘جنگی طیاروں نے سلامی دی‘ایرانی صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے معزز مہمان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم ہاؤس آمد پر مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے ایرانی صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا، جبکہ اس موقع پر پاکستان اور ایران کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔ایرانی صدر اور وزیراعظم پاکستان نے وزیراعظم ہاؤس کے سبزہ زار میں شجرکاری کی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دعا بھی کی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اہم ملاقات ہوئی جس میں علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ملاقات میں علاقائی صورتحال، امن کے فروغ اور خطے میں استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی صدر نے خطے میں مکالمے، کشیدگی میں کمی اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔ ملاقات میں علاقائی تنازعات کے پرامن حل اور مختلف فریقوں کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔صدر آصف علی زرداری اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ایوانِ صدر میں ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات میں صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کی جانب سے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور خطے میں پائیدار امن کیلئے مذاکرات اور سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیا۔ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امن اور مکالمے کیلئے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ملاقات میں اقتصادی تعاون، رابطہ کاری اور علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔دریں اثناء ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے فارسی شعر کے ذریعے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم کے فارسی شعر پر ایرانی صدر اور دوسرے حکام نے تالیاں بجائیں۔شہبازشریف نے کہا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان نے اس ایم او یو پر بطور ثالث دستخط کیے ہیں۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جنگ بندی ہمارے لیے خوشی کا لمحہ ہے۔ اللہ سے دعا گو ہیں کہ اس اقدام سے امن کے نئے دور کا آغاز ہو۔ ہم پائیدار معاہدے تک اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ہم ایرانیوں کے عزم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ایرانی بہن بھائیوں نے اس مشکل وقت میں انتہائی حوصلے و ہمت کا مظاہرہ کیا۔ جنگ بندی اور ایم او یو میں فیلڈ مارشل نے ان تھک محنت کی، اللہ بیحد مہربان ہے جس نے ہمیں یہ کامیابی عطا کی۔ ہم نے کہا تھا کہ اس جنگ کو رکوانے کیلئے جو کچھ کرسکے کریں گے۔ ہم ایران کیساتھ ہر شعبے میں تعاون کو فروغ دیں گے، ایران جلد ایک بڑی معیشت بنے گا۔ ایران کے صدر کا ہماری دعوت پر آنا ہم سب کے لیے خوشی کا باعث ہے۔ ہم ہمیشہ کے لیے دوست اور بھائی ہیں۔ ایران کی کامیابی ہماری کامیابی ہے، ایران کی ناکامی ہماری ناکامی ہے۔ پاکستان امن مذاکرات میں اعتماد کرنے پر ایرانی قیادت کا شکر گزار رہے گا۔بعدازاں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پریس کانفرنس کا آغاز شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے شعر سے کیا۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی تعلقات منفرد نوعیت کے حامل ہیں۔ پاکستان اور ایران کے عوام کی منزل ایک ہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران یک جان دو قالب ہیں، تہران اسلام آباد کے تعلقات مضبوط ہوں گے۔ پاکستان صرف ہمارا ہمسایہ ہی نہیں یہ ہمارا بھائی اور عزیز دوست ہے۔پاکستان اور ایران کے تعلقات منفرد نوعیت کے ہیں، دونوں ممالک مشترکہ مستقبل اور منزل کے شراکت دار ہیں۔ حکومت اور ایرانی عوام پاکستانی حکومت اور عوام کی حمایت پر شکرگزار ہے۔ پاکستان میں ایرانی وفد کی میزبانی پر شکرگزار ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان میں اپنے وفد کی قیادت کر رہا ہوں۔ ترقی اور خوشحالی کیلئے پاکستان کے اہم کردار کے معترف ہیں۔ایرانی صدر نے کہا کہ سلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے۔مذاکراتی عمل میں پاکستان نے بہترین کردار ادا کیا۔