اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں شہری اور فوجی شہید ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر افغان طالبان یا حکومت نے اپنا رویہ نہ بدلا تو پاکستان کو سخت اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ:افغان مہاجرین پاکستان کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہے ہیں۔افغان باشندے پاکستان کے پرچم اور نعروں کا احترام نہیں کرتے۔افغان مہاجرین نے پاکستان کے ٹرانسپورٹ بزنس اور ریلوے پر قبضہ کر لیا، اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اسمگلنگ کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی کو افغانستان سے پشت پناہی مل رہی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان سے متعلق ان کے خیالات پر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے کوئی اختلاف نہیں، اور افغان مہاجرین کا مسئلہ دنوں میں حل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات پر بھی بات کی:دفاعی تعاون کی پہلی بار باقاعدہ معاہدے کی شکل دی گئی ہے۔سعودی عرب میں اس وقت 1600 پاکستانی فوجی موجود ہیں، اور مستقبل میں تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔امریکی صدر ٹرمپ کی تجویز پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ غزہ کی صورتحال سنگین ہے اور اگر امریکہ کی طرف سے کوئی باضابطہ تجویز آئی تو مسلم ممالک مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے کہ امن فوج بھیجنی ہے یا کنٹرول سنبھالنا ہے۔