وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ افغان شہریوں کو ملک سے واپس بھیجنے کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری حکومتی اقدامات جاری رہیں گے تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو واپس بھیجا جا سکے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے آنے والے افراد کی وطن واپسی کے عمل کو روکنے یا اس میں نرمی برتنے کا کوئی تصور نہیں ہے اور یہ عمل جلد بازی، قانون اور سلامتی کے تقاضوں کے مطابق جاری رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خیبرپختونخواہ کی حکومت اپنی سیاست سے ہٹ کر اپنے صوبے کی بہتری اور سلامتی پر توجہ دے۔وزیر داخلہ کا یہ بیان اس حوالے سے اہم ہے کہ حالیہ دنوں میں افغان شہریوں کی وطن واپسی کے حوالے سے سیاسی اور سماجی سطح پر مختلف آراء سامنے آ رہی تھیں۔
بعض حلقے اس عمل کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ کچھ اسے انسانی حقوق کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔ محسن نقوی کا موقف ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی اور قومی سلامتی سب سے اہم ہے، اور غیر قانونی مہاجرین کا واپس بھیجنا اس عمل کا لازمی حصہ ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے تاکہ ملک میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور قانون کی عملداری کو مضبوط کیا جا سکے۔