نئی دہلی: بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کو مکمل ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت عالمی سطح پر تنہائی اور کمزوری کا شکار ہو رہا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق مودی کی سفارتکاری صرف ذاتی تعلقات، تصویری نمائش اور دکھاوے تک محدود رہی ہے، جس کا براہِ راست نقصان عوام اور ملک کے اسٹریٹجک مفادات کو پہنچ رہا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کے سخت بیانات
اسد الدین اویسی (آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین) نے سوال اٹھایا: "ہاؤڈی مودی اور نمستے ٹرمپ جیسی مہمات سے بھارت نے کیا حاصل کیا؟" ان کے مطابق امریکا کی جانب سے ایچ ون بی ویزا پر پابندیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکا کو بھارت کی کوئی پرواہ نہیں۔
اروند کیجریوال (کانگریس) نے مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا: "کچھ تو کریں، آخر 140 کروڑ عوام کا وزیر اعظم اتنا بے بس کیوں ہے؟"
ملیکارجن کھرگے نے انکشاف کیا کہ ایچ ون بی ویزا رکھنے والوں میں 70 فیصد ہندوستانی ہیں، جب کہ حالیہ فیصلوں سے بھارت کو 21 ہزار 700 ارب روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چابہار بندرگاہ سے استثنیٰ ختم ہونا بھی بھارت کے لیے بڑا اسٹریٹجک دھچکا ہے۔
گورو گگوئی نے کہا کہ امریکا کے فیصلے سے بھارت کے مستقبل کو نشانہ بنایا گیا ہے، لیکن مودی کی خاموشی بھارتی عوام کے لیے نقصان دہ ہے۔
کپل سیبال نے طنزیہ انداز میں کہا: "ایچ ون بی ویزا پر پابندی کے بعد ذاتی تعلق، گلے ملنا اور ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کہاں گیا؟"
"دکھاوے کی پالیسی زمین بوس ہو چکی ہے"
اپوزیشن رہنماؤں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی دکھاوے، جھوٹ اور تکبر پر مبنی ہے، جو اب زمین بوس ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق مودی اپنی سیاسی بقا کے لیے بھارت سمیت پورے خطے کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔