متاثرین کیلئے وزیراعلی ریلیف کارڈ بنے گا(عظمی بخاری)بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کانام تبدیل نہیں ہوگا روبینہ خالد

 کیا ان سے عقل لیں جنہوں نے سندھ کو آثار قدیمہ بنادیا؟ حکومت پنجاب اپنے وسائل سے سیلاب متاثرین کی مدد کررہی ہے، ہمیں بیرونی امداد کا انتظار نہیں:وزیراطلاعات
ایک رہنما نے بے نظرانکم سپورٹ پروگرام کوفراڈ کہا، بیان پرمعافی مانگنی چاہیے، یہ پروگرام غریبوں کی بقا ء اور وقار کا سہارا ہے:چیئرپرسن کی پریس کانفرنس 
لاہور‘اسلام آباد(سپیشل رپورٹر‘آئی این پی) پنجاب حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سیلاب متاثرین کی امداد سے انکار کردیا‘متاثرین کو ریلیف دینے کے لئے وزیراعلی کارڈ بنے گا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمی بخاری نے کہا  کیا ان سے عقل لیں جنہوں نے سندھ کو آثار قدیمہ بنادیا؟ حکومت پنجاب اپنے وسائل سے سیلاب متاثرین کی مدد کررہی ہے، ہمیں بیرونی امداد کا انتظار نہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں بیرونی امداد کیباوجود لوگ مکمل طور پر بحال نہیں ہوئے، سندھ یا کراچی کا کیا حال ہے؟ بلاول بھٹو نے وزیراعلی پنجاب کی تعریف کی، بلاول بھٹو کے بیان کو زیادہ معتبر سمجھتی ہوں، باقی سیلابی سیاست کرنے والوں کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مدد فراہم نہیں کی جا سکتی، جو بی آئی ایس پی سے رجسٹرڈ ہی نہیں انہیں امداد کیسے دی جائے؟ وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ سیلاب سے 47 لاکھ افراد متاثر ہوئے ، 26 لاکھ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا، وزیراعلی پنجاب نے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا ہے،  ابتدائی سروے مکمل کرلیاگیا ہے، سیلاب متاثرہ علاقوں کے کاشت کاروں کو 20 ہزار فی ایکڑ حکومت پنجاب ادا کریگی، دریں اثناء بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے  سیلاب  کے موقع پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے اجتناب کیا جائے، ایک سیاسی رہنما نے بیان دیا  بی آئی ایس پی  فراڈ ہے جو نامناسب بیان ہے، رہنما نے ایک کروڑ خاندانوں کی توہین کی ہے، بیان پرمعافی مانگنی چاییے۔بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ حالیہ سیلاب سے ملک بھر میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے، متاثرین کی بھرپور معاونت کی جا رہی ہے،2022کے سیلاب میں بی آئی ایس پی نے 70 ارب روپے کی ہنگامی امداد دی۔انہوں نے کہا کہ یہی وہ پروگرام ہے جو سیلاب زدگان کو بہترین سہولیات فراہم کرسکتا ہے۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی نے شفافیت، رفتار اور وسیع رسائی سے عوام کا اعتماد جیتا، یہ پروگرام غریبوں کی بقا اور وقار کا سہارا ہے‘ اگرکسی کو اس پروگرام کے نام سے تکلیف ہے تو یہ نام تبدیل نہیں ہوگا، یہ پروگرام سیاست نہیں، غریبوں کی بقا اور وقار کا سہارا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا مطالبہ ہے کہ سیلاب زدگان کی امداد بی آئی ایس پی کے ذریعے کی جائے، یہ پروگرام کسی کو بھکاری بنانے کیلئے نہیں بلکہ پسے ہوئے طبقے کو اوپرلانے کیلئے ہے