ظفر اقبال ظفر
کتاب خداقرآن مجید کاموضوع انسان ہے وہ انسان جیسے خالق کائنات نے تمام روئے زمین کا حاکم بنایا ہے خدا اور خدائی قوانین کے منکروں نے اس زمین پہ مفاداتی حاکمیت کے نام پر انسانی زندگیوں کو جس ناانصافیوں اور تباہیوں سے دوچار کیا ہے اس سے دلبرداشتہ ہو تے ہوئے مجھے ایسی زمینی حاکمیت پر فائز ہونے میں کوئی دلچسپی نہیںمگرمیں صرف اپنی ذات پر حکومت کرنا چاہتا ہوںاپنے خیالا ت و جذبات ڈراور طاقت کو لیکر اپنے دماغ و رُوح پر حکومت کرنا چاہتا ہوںکیونکہ میں جانتا ہوں کہ میںجس وقت اور جب چاہوں اپنے افعال کو قابومیں لاکر اس کے عوض اپنے جوابی عمل کو کنٹرول کرتے ہوئے خود پر حکومت کر سکتا ہوں۔
تلخ حالات و واقعات کی یادیں پالنے کی قیمت چکانے میں انسان زہنی سکون سے محروم ہو جاتا ہے اگر آپ چاہیںسب آفات و حوادت کو برداشت کرنے کی بجائے ان پر غالب آسکتے ہیںکیونکہ حقیقت میں انسانی وجود تعجب خیز اندرونی وسائل کا مالک ہے جو کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔بشرطیکہ انہیں اپنے حق کے استعمال میں لائیں ہم انسان اپنے خیال سے کہیں زیادہ طاقتور اور مضبوط ہیںجب ہم ناگریز سے الجھنا چھوڑ دیتے ہیں تو ہم اپنی قوت کو آزاد کر دیتے ہیںجو ہمیں حسین اور خوشگوار زندگی بسر کرنے کے قابل بناتی ہے۔جیت کا یقین سینے میں اُتارتے انسانی ہمت و قابلیت خوداعتمادی کواُجاگر کرتے جملے اپنے غسل خانے کے آئینوں پر نقش کر ڈالیے تاکہ جب آپ منہ سے گردوغباردھوئیں تو اپنے دماغوں سے پریشانیاں بھی دھو ڈالیں۔
جب ہمارا جی اچھی رقم دے کر زندگی کے معنوں میں بری چیزیں خریدنے کو للچائے تو ہمیں رک کر اپنے آپ سے خسارہ روکنے والا جائزہ لینے کا اصول اپنانا چاہیے آپ کے لیے سب سے قیمتی آپ خود ہی ہونے چاہیے ایسے سودے مت کیجئے جو آپ کو ہی بے قیمت بنا کر رکھ دیںکامیابی برقرار رکھنے والے عمل پر عمل نہ کیا جائے تو وہ قوت نہیں بنتا۔
انا تسکین قلب و دماغ کے نام پر انتقام و سزا کے راستے پر چلنے کو مجبور کرتی ہے ایسی انا کے چہرے پر طمانچہ مار کر معاف کریںاور آگے بڑھ کرسکون حیات کا دامن تھام لیجئے۔بدقسمتی سے زندگی اتنی سہل و آسان نہیں ہے مگر ہم خود کے لیے تو وجہ مشکلات و تکلیف نہ بنیںاور منفی رحجان کی بجائے مثبت رحجان اختیار کرتے ہوئے پریشانی اور دھیان میں فرق رکھیںاس کی وضاحت کیے دیتا ہوں کہ ہم گاڑی چلاتے وقت حادثے سے بچنے کے لیے دھیان تو رکھتے ہیں مگر پریشان نہیں ہوتے یہی اصول آپ مسائل کی سٹرک پر چلنے والی زندگی کی گاڑی پر لاگو رکھیں۔دھیان کا مطلب ہے اپنے مسائل کا یقین رکھتے ہوئے سکون کے ساتھ انہیں پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوشش سے کامیابی پانا اور پریشانی کا مفہوم زہنی توازن کھودینے والے بے مقصد دائروں میں گھومتے رہنا۔
تو کیوں ناتعمیری سوچ بچار کے روزمرہ پروگرام پرعمل کرکے خوشی کے لیے جدوجہد کی جائے؟اپنی ذات پر حکومت کا مزہ پتاہے کیا ملتاہے ؟کہ انسان اس قدر خوش رہ سکتا ہے جس قدر وہ خودچاہے کہ خوش ہوا جائے اوریہ اس لیے ممکن ہے کہ خوشی ایک داخلی چیز کا نام ہے جس کا خارجی ماحول سے کوئی تعلق نہیں۔
میںجانتا ہوں کہ آپ دنیاوی ضروریات کے پیچھے آسمانی تحفہ حیات کو خرچ کرکے جینے کی صیح قیمت وصول نہیں کر پا رہے ہیں تو آئیے اس ایک ہی بار ملی ہوئی زندگی کی سمت درست کرکے باقی بچی عمر کا لطف اُٹھایا جائے اپنے عزیزو اقارب دوست احباب ہمسائے اپنا کام اپنی قسمت یہ سب جیسے بھی ہیں انہیں کھلے دل سے قبول کرکے نبھا کیجئے۔اپنے جسم کی حفاظت کیجئے اس کا خیال رکھیے ورزش کیجئے غفلت مت بھرتیںتاکہ آپ کا وجود آپ کا حکم ماننے والی ایک مکمل مشین بن جائے۔دماغ کو توانا بنانے کے لیے کارآمد عمل سیکھیں کوشش دھیان توجہ کی طاقت بڑھانے کے لیے زہنی لفنگا پن ترک کیجئے اس جسمانی صحت کی وزرش کے ساتھ ساتھ روحانی پرورش پر بھی نیکیوں کا عمل برقرار رکھیں کسی اپنے پرائے کی تفریق کیے بغیر انسانی وجود پر نیک سلوکی یوں کریں کہ اسے آپ کا پتا نہ چلے۔کسی کی غلطیاں نہ نکالیں نہ کسی کو سدھارنے کی کوشش کریںاس کی سب سے زیادہ مستحق آپ کی اپنی ذات ہے اسے عجلت اور تذبذب سے نکالیںخودکو سکون اور خاموشی کاوقت دیں جس میں خدا کے متعلق سوچیں تاکہ آپ کی زندگی کے تناظر میں وسعت پیدا ہوسکے۔ خوش رہنے کے لیے نڈر رہیںحسن سے لطف اندوز ہوں جو آپ سے محبت کرتے ہیں ان سے محبت کرنے میں مت جھجکیںاور اس دماغی رویے پہ مستقل مزاجی سے کاربند رہیں۔
اپنے دشمن کے لیے اپنے اندر جلائی ہوئی آگ اُس تک پہنچنے سے پہلے آپ کو جلاتی ہے اس آگ پر معافی کا پانی ڈالیں نرمی پر مبنی میٹھی گفتگو غصے اور ناراضگی کو ختم کرکے انسانی قیمت بڑھا دیتی ہے۔جنہیں آپ پسند نہیں کرتے انہیں سوچنے پر اپنا ایک لمحہ بھی ضائع مت کریںوقت انسانی زندگی کا سب سے قیمتی خزانہ ہے اسے مخلص حقدارلوگوں سے وابستہ رکھیں۔غصیلا شخص ہمیشہ زہر سے بھرا رہتا ہے یہ زہر اس کی رگ رگ میں سرایت کرتا ہے ہر غصیلے شخص کی موت پر مجھے لگتا تھا کہ اگر یہ زہر اس کے وجود میں نہ ہوتا تو یہ مزید کئی برس تک زندہ رہ سکتا تھا۔
زندگی خدا کی عطا ہے اسے سزا کے طور پر مت گزاریں اپنے وجود کے تخت پر خوبصورت جذبوں کو حکومت کرنے دیں آپ کے سو ا آپ کا کوئی نہیں خدا نے ہر آدمی کو جسم آدم ؑ کی طرح احساسات و جذبات عقل کے ساتھ اس پر اسی کو حکومت دیکرکرزمین پر اتارا ہے آپ اپنے وجود کا جائزہ لیں کہ اس پر آپ ہی کی حکومت ہے یا آپ کے دشمن احساسات و جذبات کا قبضہ ہے اگر آپ کا اپنا پن آپ کے بس میں نہیں تو اوپر بیان کی گئی تمام وضاحتیں اورتجاویر آپ کے ہی لیے ہیں اسے راہنمائی بنا کر فائدہ اُٹھائیںتاکہ میرا یہ قلمی جہادمیدان انسانیت میںسکون کی فتح سے ہمکنار ہوسکے۔