رحمت کے آنسو اور دل کا سکون

 محمد باقر جاوا
انسان کی زندگی میں بعض کیفیات ایسی ہوتی ہیں جو محض جذباتی ردِعمل نہیں ہوتیں بلکہ الٰہی عنایت اور رحمت کا عکس ہوتی ہیں۔انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ وہ لمحے ہیں جب وہ اپنے خالق کے حضور جھک کر اپنی خطائوں کا اعتراف کرتا ہے اور اس کی آنکھوں سے سچی توبہ کے آنسو بہتے ہیں۔یہ آنسو صرف پانی کے قطرے نہیں بلکہ یہ دل کے بوجھ کو ہلکا کرتے ہیں، روح کو پاکیزگی بخشتے ہیں اور اللہ کی رحمت کو متوجہ کرتے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے "آنکھوں کی نمی اور دلوں کی نرمی اللہ کی جانب سے عطا ہونے والی رحمت ہے"۔اور امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: "اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہ دل ہے جو نرم ہو اور سب سے قیمتی وہ بدن ہے جو گناہوں پر لرزے اور سب سے قیمتی وہ آنکھ ہے جو اللہ کے خوف میں نم ہو"۔۔اللہ کے نزدیک آنکھ کا نم رہنا اور دل کا نرم ہونا اس کی بارگاہ میں بڑی قدر و قیمت رکھتا ہے۔ حضرت دائود علیہ السلام اللہ کے حضور بہت زیادہ روتے تھے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ ان کی آنکھوں کی نمی اللہ کے ذکر اور خوفِ خدا سے کبھی خشک نہیں ہوتی تھی۔ ان کے اس گریہ و زاری کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا اور انہیں "اوّاب" یعنی بار بار اللہ کی طرف رجوع کرنے والا قرار دیا۔۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ّدو آنکھوں کو آگ نہ چھوئے گی۔۔ ایک وہ جو اللہ کے خوف سے روئی اور دوسری وہ جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی رہی"۔ اس ارشادِ مبارک سے واضح ہوتا ہے کہ آنکھ کا آنسو محض پانی کا قطرہ نہیں بلکہ یہ اللہ کے خوف اور اس کی محبت کا ایسا تحفہ ہے جو آخرت میں بندے کو جہنم کی آگ سے بچا سکتا ہے۔ یہ آنسو رحمت کے وسیلے اور نجات کے اسباب میں سے ہیں۔۔ایک روایت میں آیا ہے کہ جب کسی مومن کی آنکھ اللہ کے خوف میں بہہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر ہزار رحمتیں نازل کرتا ہے اور وہ آنکھ قیامت کے دن جہنم کی آگ سے محفوظ رہتی ہے۔ یہ وہ عظیم بشارت ہے جو اہلِ ایمان کو اپنے دل کی نرمی اور آنکھ کی نمی پر استقامت کے لیے قوتِ عمل عطا کرتی ہے۔امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ: "ہر آنکھ قیامت کے دن روتی ہوگی مگر وہ آنکھ خوشحال ہوگی جو اللہ کے خوف اور اپنی خطائوں پر دنیا میں روئی۔" اس قول سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ دل کی نرمی اور آنکھ کی نمی دراصل ایک ایسا سرمایہ ہے جو دنیا و آخرت دونوں میں انسان کے کام آتا ہے۔ دنیا میں یہ انسان کو سکون اور طمانیت عطا کرتا ہے اور آخرت میں یہ عذاب سے نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔۔آنسو دراصل دل کی کیفیت کے مظہر ہیں۔ جب انسان کا دل نرم ہو تو اس کی آنکھ بھی نرم ہو جاتی ہے۔ قرآن میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو اللہ کی آیات سن کر روتے ہیں۔ سورۃ المائدہ  میں آیا ہے: "جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر نازل 
ہوا تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑتے ہیں کیونکہ وہ حق کو پہچان لیتے ہیں۔"۔۔ یہ آیت اس حقیقت پر روشنی ڈالتی ہے کہ آنسو دراصل معرفتِ حق کی علامت ہیں۔انسان کی کامیابی اس بات میں نہیں کہ وہ دنیاوی دولت، شہرت یا طاقت حاصل کرے بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کا دل نرم اور اس کی آنکھ نم رہے۔ کیونکہ یہ کیفیت اس کے ایمان کی علامت ہے۔ جو دل اللہ کے خوف میں نرم نہ ہو اور 
جو آنکھ کبھی اشکبار نہ ہو، وہ گویا خشک زمین کی طرح ہے جس پر بارش کا پانی نہ برسے۔ اور وہ دل جو اللہ کے ذکر سے لرز اٹھے اور آنکھ جس سے آنسو بہہ نکلے، وہ اس زمین کی مانند ہے جس پر بارش ہو کر سبزہ اگے اور پھول کھل اٹھیں۔امام حسن علیہ السلام سے منقول ہے کہ: "جب دل سخت ہو جائے تو اللہ کا ذکر کرو اور جب آنکھ خشک ہو جائے تو اپنے گناہوں کو یاد کرو۔یعنی  دل کی سختی اور آنکھ کی خشکی کا علاج اللہ کا ذکر اور توبہ کے آنسو ہیں۔
انسان کے دل کی سختی سب سے بڑی روحانی بیماری ہے۔ یہ بیماری اسے نہ صرف اللہ سے دور کر دیتی ہے بلکہ دوسروں کے دکھ درد کو بھی محسوس کرنے سے روک دیتی ہے۔ وہ دل جو کسی کی تکلیف پر نہ روئے، کسی یتیم کے دکھ پر نہ دھڑکے اور اللہ کے ذکر پر نرم نہ ہو، وہ دل دراصل قساوت کا شکار ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس جو دل اللہ کی یاد میں پگھل جائے، جو دوسروں کے غم میں اشک بہا دے اور جو اپنی خطائوں پر لرز اٹھے، وہی دل سلامت ہے اور وہی دل اللہ کی رحمت کے قریب ہے۔ بندہ اگر اپنی آنکھ اور دل کو سخت ہونے سے بچا لے تو گویا اس نے اللہ کی سب سے بڑی نعمت کو تھام لیا۔ یہی نرمی اور یہی نمی انسان کو حیوانیت سے بچا کر انسانیت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کرتی ہے۔ یہی کیفیت ہے جو انسان کو سکونِ قلب عطا کرتی ہے، اس کی روح کو تقویت بخشتی ہے اور اسے دنیا و آخرت میں کامیاب بناتی ہے۔۔۔یہ آنسو دراصل اللہ کے حضور بندے کی عاجزی اور انکساری کا اعلان ہیں۔ بندہ جب روتا ہے تو گویا اپنی بے بسی اور کمزوری کو رب کے سامنے پیش کرتا ہے۔ یہ کیفیت رب کو اتنی پسند آتی ہے کہ وہ اپنے بندے کو اپنی خاص رحمت سے نواز دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء￿  اور اولیاء￿  ہمیشہ اپنے مریدوں کو دل کی نرمی اور آنکھ کی نمی کی تاکید کرتے رہے ہیں۔
آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان مادی آسائشوں، طاقت اور شہرت کی دوڑ میں اس قدر الجھ گیا ہے کہ اس نے اپنے دل کو سخت اور اپنی آنکھ کو خشک کر لیا ہے۔ دنیا کی چکاچوند روشنیوں نے اس کے باطن کے اندھیروں کو بڑھا دیا ہے۔ رحم و محبت کی جگہ بے حسی اور غفلت نے لے لی ہے اور انسان نے یہ گمان کر لیا ہے کہ سکون صرف دولت، اقتدار یا ظاہری کامیابی میں ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انسان کا دل جب سخت ہو جائے تو نہ وہ اپنے خالق کی محبت کو محسوس کر سکتا ہے اور نہ ہی مخلوق کے دکھ درد کو۔ آنکھ جب آنسو بہانے سے محروم ہو جائے تو وہ دل کی نرمی کو کھو بیٹھتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان اپنے رب کی رحمت سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔اگر ہم اپنی آنکھ کو اللہ کے حضور رونے کے قابل بنا لیں اور اپنے دل کو نرم کر لیں تو ہم نہ صرف اپنے خالق کی رحمت کے سائے میں آجائیں گے بلکہ اپنے اندر وہ سکون اور راحت پائیں گے جو دنیا کی کوئی طاقت، دولت یا مقام نہیں دے سکتا۔ یہ سکون صرف اسی وقت نصیب ہوتا ہے جب انسان اپنے رب کے سامنے ٹوٹ کر جھکے، اپنی خطائوں پر نادم ہو اور اس کی بارگاہ میں اشکِ ندامت کے موتی نچھاور کرے۔ یہی آنسو بندے اور رب کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم کرتے ہیں جس کی بنیاد اخلاص، عاجزی اور رحمت پر ہوتی ہے۔رحمت کے آنسو اور دل کا سکون وہ سرمایہ ہیں جو مومن کو دنیا کی سختیوں میں نرم دل عطا کرتے ہیں اور آخرت کی سختیوں میں اسے نجات بخشتے ہیں۔ یہ آنسو وہ نعمت ہیں جو دل کی قساوت کو توڑتے ہیں اور روح کو زندگی بخشتے ہیں۔ یہ وہ لمحے ہیں جب انسان کو اپنی اصل حقیقت اور اپنے رب کے قریب ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ الٰہی تحفہ ہے جس کی قدر کرنا اور جسے ہمیشہ زندہ رکھنا نہایت ضروری ہے۔