کفایت شعاری میں سکون

 محمد باقر جاوا
کفایت شعاری انسان کی زندگی کا وہ اصول ہے جو نہ صرف معاشی استحکام بلکہ روحانی سکون کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو اعتدال، میانہ روی اور توازن کو ہر معاملے میں پسند کرتا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اگر ہم انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کفایت شعاری دراصل ایک ایسا طرزِ عمل ہے جو انسان کو فضول خرچی، لالچ اور فقر و محتاجی سے بچاتا ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ وہ اپنے مال کو فضول خرچی میں ضائع نہ کریں بلکہ اعتدال کے ساتھ خرچ کریں۔اللہ تعالیٰ سور?  فرقان میں ارشاد فرماتا ہے: ’’  وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخیلی کرتے ہیں بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال رکھتے ہیں ‘‘۔ اس آیت میں کفایت شعاری کا جامع اصول بیان کر دیا گیا ہے۔ اسراف یعنی حد سے زیادہ خرچ انسان کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے جبکہ بخل یعنی ضرورت کے وقت خرچ نہ کرنا معاشرتی تعلقات اور انسانی قدروں کو مجروح کرتا ہے۔ اسلام ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک معتدل راستہ اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور یہی کفایت شعاری ہے۔کفایت شعاری کا مفہوم صرف مالی خرچ تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ کھانے پینے، لباس، رہائش  حتیٰ کہ گفتگو اور وقت کے استعمال تک میں اعتدال اختیار کرنا کفایت شعاری کہلاتا ہے۔ رسولِ اکرم ? نے فرمایا: ’’  کھاؤ، پیو، پہنو اور صدقہ کرو لیکن نہ اسراف کرو اور نہ تکبر‘‘۔ اس حدیثِ مبارکہ میں رسولِ اکرم ? نے واضح کر دیا کہ اسلام کسی کو دنیا کی نعمتوں سے محروم نہیں کرتا بلکہ ان کے درست اور متوازن استعمال کی تعلیم دیتا ہے۔
قرآن مجید میں اسراف کرنے والوں کو شیطان کے بھائی قرار دیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:  ’’  بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں‘‘۔اس  سے یہ حقیقت واضح  ہوتی ہے کہ فضول خرچی محض ایک مالی غلطی نہیں بلکہ روحانی گمراہی کی علامت ہے۔ فضول خرچ انسان اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے، وہ دولت کو فخر و نمائش کا ذریعہ بناتا ہے اور آہستہ آہستہ معاشرتی توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ دوسری طرف کفایت شعاری انسان کو قناعت، شکر اور رزق حلال کی راہ پر قائم رکھتی ہے۔نبی کریم ? نے اپنی عملی زندگی سے بھی ہمیں کفایت شعاری کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔ آپ ? کے گھر میں اکثر اوقات کئی کئی دن چولہا نہیں جلتا تھامگر آپ ? نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔ آپ ? نے فرمایا: ’’  دولت زیادہ ہونے کا نام غنا نہیں بلکہ اصل غنا دل کی امیری ہے‘‘۔ یہی وہ تعلیم ہے جو انسان کو حرص و ہوس سے بچاتی ہے۔ اگر انسان کا دل قانع ہو تو کم وسائل میں بھی سکون حاصل ہوتا ہے اور اگر دل لالچ سے بھرا ہو تو ساری دنیا کے خزانے بھی اسے مطمئن نہیں کر سکتے۔
کفایت شعاری کا تعلق صرف انفرادی زندگی سے نہیں بلکہ معاشرتی و قومی ترقی سے بھی ہے۔ اگر ایک معاشرہ اپنے وسائل کو درست طریقے سے استعمال کرے تو وہ قرضوں اور غربت کے بوجھ سے نکل سکتا ہے۔ رسول اکرم ? نے فرمایا:  ’’خرچ میں میانہ روی نصف معاش ہے‘‘۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان کفایت شعاری اختیار کرتا ہے، وہ اپنی زندگی کو خوشحال بنانے کا نصف سفر طے کر لیتا ہے۔ دوسری طرف اسراف کرنے والا شخص چاہے کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو ایک وقت آتا ہے کہ وہ محتاجی کی راہوں پر آ جاتا ہے۔حضرت علی? فرماتے ہیں: ’’ جو اپنی زندگی میں میانہ روی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے رزق عطا فرماتا ہے‘‘۔ ایک اور موقع پر آپ? نے فرمایا: ’’کفایت شعاری تھوڑے مال کو بھی بڑھا دیتی ہے‘‘۔ یہ قول دراصل ایک معاشی اصول ہے کہ اگر انسان فضول خرچی سے بچے اور اعتدال سے خرچ کرے تو اس کے محدود وسائل میں برکت پیدا ہوتی ہے۔امام جعفر صادق? کا ارشاد ہے: ’’انسان کے لیے اتنا اسراف کافی ہے کہ وہ جو کچھ دل چاہے، وہی کھاتا رہے‘‘۔ یہ ارشاد ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ کفایت شعاری صرف مالی نظم و ضبط نہیں بلکہ نفسیاتی توازن بھی ہے۔ خواہشات پر قابو پانا، لذتوں میں میانہ روی اختیار کرنا اور ضرورت و آرزو میں فرق کو سمجھنا ہی حقیقی کفایت شعاری ہے۔آج کے دور میں جب ہر انسان خرید و فروخت کے جنون میں مبتلا ہے، کفایت شعاری کی تعلیم پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور اشتہارات نے خواہشات کو ضرورت بنا دیا ہے۔ لوگ برانڈز اور نمائش   میں اتنے الجھ گئے ہیں کہ اصل خوشی، سکون اور اطمینان کہیں کھو گیا ہے۔ ایسے ماحول میں کفایت شعاری محض ایک مالی تدبیر نہیں بلکہ روحانی انقلاب ہے۔ جب انسان سادگی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی زندگی کے حقیقی مقاصد کو سمجھنے لگتا ہے۔کفایت شعاری نہ صرف انفرادی سکون بلکہ اجتماعی عدل کی ضامن بھی ہے۔ اگر ہر شخص اپنے وسائل کے مطابق خرچ کرے اور غیر ضروری اشیاء￿  سے اجتناب کرے تو معاشرے میں وسائل کی تقسیم منصفانہ ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس فضول خرچی طبقاتی تفاوت کو بڑھا دیتی ہے۔ دولت مند کی نمود و نمائش غریب کے دل میں حسد اور نفرت پیدا کرتی ہے اور یوں معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے  اسلام چاہتا ہے کہ ہر فرد اپنے خرچ میں میانہ روی اختیار کرے تاکہ معاشرہ متوازن اور منصفانہ بن سکے۔۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق کفایت شعاری دراصل شکر گزاری کا عملی اظہار ہے۔ جو شخص اللہ کے دیے ہوئے رزق میں اعتدال اختیار کرتا ہے، وہ گویا اپنے رب کا شکر ادا کر رہا ہوتا ہے۔ سورہ? ابراہیم میں ارشاد ہے: ’’  اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا‘‘۔ شکر کا مطلب صرف زبان سے اظہار نہیں بلکہ رزق کو ضائع نہ کرنا اور اس کا صحیح استعمال بھی شکر کے زمرے میں آتا ہے۔۔کفایت شعاری نہ صرف مالی نظم و ضبط بلکہ ایمان کی علامت بھی ہے۔ جو انسان اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہیوہ دراصل اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے۔ اور جو اپنے نفس پر قابو پا لے وہی حقیقی کامیاب ہے۔ قرآن کہتا  ہے: ’’وہی کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے آلودہ کیا‘‘۔ کفایت شعاری اسی تزکیہ? نفس کا ایک پہلو ہے۔لہٰذا اگر ہم قرآن و حدیث اور اقوالِ معصومین کی روشنی میں اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ کفایت شعاری محض ایک اخلاقی یا مالی اصول نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے۔ یہ ہمیں عاجزی، قناعت، شکر اور انصاف کی راہوں پر گامزن کرتی ہے۔ اس طرزِ زندگی کو اپنانا نہ صرف دنیاوی کامیابی بلکہ اخروی نجات کا بھی ذریعہ ہے۔ کیونکہ جو شخص اپنے مال، وقت اور نعمتوں میں اعتدال اختیار کرتا ہے وہ دراصل اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اس نے اپنی خواہشات پر خدا کی رضا کو مقدم رکھا ہے  اور یہی ایمان کی معراج ہے۔