رفیع صحرائی
ایک وقت تھا جب خودکشی کے زیادہ تر واقعات کا تعلق غربت، فاقہ کشی اور بے روزگاری سے جوڑا جاتا تھا۔ اخبارات میں یہ خبریں پڑھنے کو ملتیں کہ کسی باپ نے بچوں کی بھوک سے تنگ آ کر زندگی کا خاتمہ کر لیا، کسی ماں نے غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے بچوں سمیت نہر میں چھلانگ لگا دی یا کسی خاتون نے عید پر نئے کپڑے نہ ملنے کے صدمے میں خود کو آگ لگا لی۔ یہ سب واقعات معاشی بدحالی کی انتہا کو ظاہر کرتے تھے۔ مگر افسوس کہ اب حالات ایک نیا اور زیادہ خطرناک رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
انسانی زندگی میں آسائش کی خواہش ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کا گھر خوب صورت ہو، لباس اچھا ہو، بچے اچھی تعلیم حاصل کریں اور زندگی سکون سے گزرے۔ یہ خواہشات فطری بھی ہیں اور جائز بھی۔ مگر جب یہ خواہشات ضرورت سے بڑھ کر مقابلہ بازی، احساسِ کمتری اور اندھی تقلید میں بدل جائیں تو پھر یہی خواہشات انسان کے سکون، رشتوں اور زندگی تک کو نگلنا شروع ہو جاتی ہیں۔
آج خودکشی صرف غریب طبقے کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ متوسط طبقہ بھی ذہنی دباؤ، احساسِ محرومی اور مصنوعی معیارِ زندگی کی دوڑ میں بری طرح پس رہا ہے۔ بظاہر آسودہ دکھائی دینے والے گھروں کے اندر بے سکونی، جھگڑے، ڈپریشن اور نفسیاتی الجھنیں جنم لے رہی ہیں۔ یہ المیہ صرف معاشی کمزوری کا نہیں بلکہ اخلاقی، سماجی اور فکری زوال کا بھی عکاس ہے۔
سوشل میڈیا نے اس آگ پر تیل کا کام کیا ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی کو خوبصورت، پْرتعیش اور کامیاب دکھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ مہنگے ملبوسات، قیمتی موبائل فون، برانڈڈ جوتے، لگڑری گاڑیاں، پرتعیّش دعوتیں اور مہنگے بیوٹی پارلرز گویا کامیاب زندگی کی علامت بنا دیے گئے ہیں۔ عام آدمی جب دوسروں کی یہ مصنوعی چمک دمک دیکھتا ہے تو اسے اپنی زندگی کمتر محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی احساسِ کمتری رفتہ رفتہ ذہنی دباؤ، مایوسی اور بعض اوقات تباہ کن فیصلوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
خواتین کے لیے بھی میڈیا اور اشتہارات نے ایک غیر حقیقی معیارِ حسن اور طرزِ زندگی متعین کر دیا ہے۔ ڈراموں اور اشتہارات میں دکھائی جانے والی پرتعیّش زندگی، مہنگے ملبوسات اور بھاری میک اپ نے بہت سی خواتین کے ذہنوں میں یہ تصور بٹھا دیا ہے کہ خوشی اور عزت کا تعلق صرف ظاہری نمود و نمائش سے ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض گھروں میں شوہروں پر بے جا مطالبات کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ محدود آمدنی رکھنے والا شخص جب بیوی اور بچوں کی خواہشات پوری کرنے سے قاصر رہتا ہے تو گھر کا سکون برباد ہونے لگتا ہے۔ بعض خواتین فرمائش کرتے وقت یہ نہیں سوچتیں کہ ان کا خاوند اپنی آمدنی میں ان کی خواہش پوری کر پائے گا یا نہیں۔ جھگڑا شروع ہوتا ہے اور اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ خاوند ڈپریشن میں آ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے۔
شادی بیاہ اور دیگر تقریبات بھی اب سادگی کے بجائے مقابلہ بازی کا میدان بنتی جا رہی ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، مہنگے کپڑوں اور زیورات کی نمائش، اور دکھاوے کی رسموں نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ قرض لے کر تقریبات کرنا، صرف لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے فضول خرچی کرنا اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرنا اب ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ سب چیزیں بظاہر خوشی کا سامان معلوم ہوتی ہیں مگر حقیقت میں یہ بے سکونی اور ذہنی اذیت کو جنم دیتی ہیں۔
ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض خواتین اور مرد وقتی آسائش، لالچ یا جذباتی کمزوری کے باعث ناجائز تعلقات کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ ایسے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں معمولی گھریلو اختلافات نے سنگین جرائم کی شکل اختیار کر لی۔ اگر ان واقعات کی جڑ تک پہنچا جائے تو اکثر وہاں احساسِ محرومی، مادہ پرستی اور اخلاقی کمزوری ہی دکھائی دیتی ہے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ خوشی کا تعلق صرف دولت سے نہیں ہوتا۔ دنیا میں بے شمار امیر لوگ ذہنی سکون سے محروم ہیں جبکہ محدود وسائل رکھنے والے کئی خاندان محبت، برداشت اور قناعت کی بدولت پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ اسلام نے بھی ہمیں اعتدال، سادگی اور قناعت کا درس دیا ہے۔ اگر انسان اپنی حیثیت کے مطابق زندگی گزارنا سیکھ لے تو آدھی پریشانیاں خود بخود ختم ہو جائیں۔
والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بچپن ہی سے سادگی، شکرگزاری اور محنت کی تربیت دیں۔ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ انسان کی اصل خوبصورتی اس کے کردار، اخلاق اور علم میں ہوتی ہے نہ کہ قیمتی لباس اور مہنگے برانڈز میں۔ اسی طرح میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ غیر ضروری نمود و نمائش کے کلچر کو فروغ دینے کے بجائے سادہ اور متوازن زندگی کی مثبت مثالیں پیش کرے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کریں۔ اگر ہر شخص صرف دوسروں کو متاثر کرنے کے بجائے اپنے گھر کے سکون، اپنے رشتوں کی مضبوطی اور ذہنی آسودگی کو اہمیت دینا شروع کر دے تو معاشرے کے بہت سے مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اصل خوشی مصنوعی چمک دمک میں نہیں بلکہ قناعت، محبت، باہمی احترام اور سادہ طرزِ زندگی میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو ذہنی سکون بھی دیتا ہے اور خاندان کو ٹوٹنے سے بھی بچاتا ہے۔