80 روپے فی ووٹ؛ ووٹ چوری کاہوشربا سکینڈل سامنے آگیا

 لاہور(نیٹ نیوز)انتخابات میں ووٹ چوری کرنے کا معاوضہ 80 روپے فی ووٹ کے حساب سے وصول کیا گیا۔ اس انشاف نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی۔ ووٹ چوری میں ملوث حکومت پر تنقید کی نئی لہر چل پڑی؛ ’ووٹ چوری کا سچ پورے ملک کے سامنے آ چکا ہے‘، پڑوسی ملک کی ریاست میں ووٹرز لسٹوں سے اصلی ووٹروں کے نام  80 روپے فی  ووٹر معاوضہ کے حساب سے بہت بڑی تعداد میں ڈیلیٹ ہونے کی خبر پر  اپوزیشن الائنس کی سربراہ کانگریس کا رد عمل بھی سامنے آ گیا۔کانگریس نے کہا کہ ووٹ چوری کا یہ انکشاف تو محض ایک اسمبلی سیٹ کا ہے، بی جے پی نے اس طرح کہاں کہاں منظم طریقے سے ووٹ چوری کی ہے، اس کا انکشاف ہونا ابھی باقی ہے۔کرناٹک کے انتخابی حلقہ آلند میں ’ووٹ چوری‘ سے متعلق ہوئے انکشاف نے سیاسی ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ ایس آئی ٹی کو ملے ثبوتوں کے مطابق ہر ایک ووٹر کا نام حذف کرنے کے لیے 80 روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں ووٹ حذف کیے جانے کی درخواست کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس نے کئی طرح کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب اس معاملے میں کانگریس نے ایک بار پھر بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’ذرا سوچیے، ’ووٹ چوری‘ کا یہ انکشاف تو محض ایک اسمبلی سیٹ کا ہے، بی جے پی نے اس طرح کہاں کہاں منظم طریقے سے ووٹ چوری کی ہے، اس کا انکشاف ہونا ابھی باقی ہے۔‘‘