روبینہ شاہین
1400 سال پہلے جب مکہ والوں کے ظلم و ستم حد سے بڑھنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ظہور مکہ میں ہوا. اور جب 40 سال کی عمر میں نبوت کا آغاز ہوا تو مکہ والوں کے ظلم و ستم، مخالفت اور سازش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حد سے زیادہ بڑھ گئی اور اللہ پاک کے حکم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم ہو. قران پاک میں مدینہ منورہ کو شرب کا نام دیا گیا. کیونکہ اس کا نام شرب ہی تھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قیام کے بعد شیرب کو مدینہ منورہ کا نام دے دیا گیا.
1400 سال بعد تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان میں علامہ اقبال کے خوابوں اور قائد اعظم کی کاوشوں کے نتیجے میں ایک ملک پاکستان کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا. جس کا مقصد صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کا نام روشن کرنا تھا. مسلمان اپنے مذہبی اور معاشرتی تہوار کھل کے اس ملک میں منا سکتے ہیں. اذان پر پابندی نہیں اور اسلامی روایات کو عالی شان طریقے سے منایا جاتا ہے. 77 سال ہو چکے ہیں پاکستان کے قیام کو مگر حیرت کی بات یہ رہی کہ یہ ملک ہمیشہ ہی جنگی حالات میں چلتا رہا کچھ مہینوں بعد کچھ سالوں بعد کبھی کوئی چھوٹی اور کبھی بڑی جنگ اس ملک پر مسلط کر دی جاتی ہے. اور اس کو مسلط کرانے کے لیے تمام دنیا کے ایسے لوگ جو مسلمان نہیں وہ بھی شریک ہوتے ہیں یعنی تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ہر وقت پاکستان کے سر پر منڈلاتا رہتا ہے. پاکستان کے لوگ شاید اتنا کھل کے جیتے نہیں جتنا ان کو مرنے کا خوف مسلط رہا. اج کی جنگ جو کہ تیر تلوار اور بندوق کی گولی سے نکل کر بارود کی جنگ بن چکی ہے. دو مہینوں ہفتوں دنوں میں نہیں بلکہ صرف گھنٹوں کی رہ چکی ہے. دنیا نے اس کو مذاق سمجھ لیا ہے فلسطین ایک بہتا ملک ہے. اس میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کا لہو بہ چکا ہے مگر کوئی اس کو ختم نہیں کر سکا. روز شہیدوں کا لہو بہتا ہے اور شاید یہی مثال پاکستان جیسے ملک کے لیے سمجھی جاتی رہی. کہ جب چاہا اس ملک کو تباہ کر دیا جائے گا دشمن کے عزائم خطرناک تھے. چھ مئی کی رات سب سکون سے ہنستے کھیلتے سوئے مگر سات مئی کی صبح ایک عجیب دہشت اور خوف تھا. کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا دونوں ملکوں کی عوام پریشان اور حیران تھی کہ راتوں رات اتنا بڑا فیصلہ مگر ہر انسان کی آنکھ میں شاید ایک ہی خوف تھا کہ دونوں ایٹمی قوت آمنے سامنے ہیں اور کسی وقت بھی ایٹم بم چل جائے گا اور ہر چیز تباہ ہو جائے گی. شاہد ساری دنیا بھی اسی انتظار میں تھی. یقین کریں میں نے ایسے ایسے ویڈیو کلپس دیکھے جس میں لوگ اپنے پودوں اور پھولوں کو آخری بار دیکھ کر کہہ رہے تھے کہ اے خوبصورت پھولوں دنیا کی بہار کسی بھی لمحے ختم ہو جائے گی اور ہمارے ساتھ تم بھی. اور پودے بھی حیران ہو کر کہنے والوں کو یقین دلا رہے تھے کہ اللہ پہ یقین رکھو یقینا ایسا نہیں ہوگا اللہ کو اپنی یہ خوبصورت دنیا بہت پیاری ہے. سینکڑوں کے حساب سے ڈرون اور جنگی جیٹ مار گرائے گئے. رات کو سوتے ہوئے تو دونوں ملکوں کی عوام صبح کو بیدار نہ ہونے کا سوچ کر سوتے تھے. خوف و حراس بچے بچے کے دل پر مسلط تھا مگر شاید جو یہ سب کرا رہے تھے ان کو کوئی خوف نہیں تھا. کے نسل انسانیت تباہ ہو جائے گی. اور کل اس سرزمین پہ پھل پھول یا انسانی جانیں شکل میں نہ نظر آ سکیں. 9 تاریخ کو ایک تاریخی اعلان کیا گیا کہ پاکستانی قوم آپریشن بنیان المرصوص یعنی آہنی دیوار صبح کرے گی اور ہر جنگ کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا.10 تاریخ کی صبح فجر ٹائم پاک فوج کے جوانوں نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی. سب رشتہ داروں کے فون آرہے تھے ایک دوسرے کا حال احوال معلوم کیا جا رہا تھا. تسلی دی جا رہی تھی. میرا خیال ہے ہر بندے کی انکھ میں ایک ہی خوف تھا کہ بس دنیا ختم ہوئی. مگر صدقے اس رب کے جس کے قبضے میں ہماری جان ہے اور بے شک اسی کے پاس لوٹ کے جانا ہے. دو گھنٹے میں ہمارے فوجی جوانوں نے وہ کر دیا جو شاید دنیا ایک معجزہ دیکھتی رہی اور حیران کن فتح میں وقت تبدیل ہو گیا. دونوں ملکوں کی عوام اپنے روز مرہ معاملات میں مصروف رہی اور آگ اور برور کا کھیل اپنی ہی جگہ پر ختم ہو گیا. کسی انسانی جان کو نقصان پہنچائے بغیر وقت نے انڈیا کو گھٹنے دیکھنے پر مجبور کر دیا. اور چند گھنٹوں میں وہ ممالک جو جنگ کرانے پر امادہ تھے پاکستانی افواج اور قوم کا جوش و جذبہ دیکھ کر صلح کرانے پر امادہ ہو گئے اور وقت بدل کر خاموشی میں چلا گیا. موت کے سوداگر اپنی زندگیوں کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے. سچ میں:
عقل ہے محو تماشہ لب بام ابھی
دونوں ملکوں کی عوام کو یہ یقین آنے لگا کہ وہ سب زندہ ہیں اور آگ کا دریا ختم ہو گیا ہے. ایک جنگ دونوں ملکوں کو کس معاشی اور معاشرتی بدحالی میں لے جاتی شاید وقت جنونی احساس ہی نہیں رہتا. مگر یہ تو سوچو اگر زندگی کے آثار زمین پر ختم ہو جاتے تو کیا قبرستان پر حکومت کی جاتی اور محلوں کی جگہ ویرانوں میں قانون نافذ کیا جاتا. جیو اور جینے دو. امن ہمارا مشن ہے. انسانیت ہماری معراج ہے. اگر انسان نہیں تو راج کیسا. پاک فوج کے تمام جوانوں کو سلام ہو. پوری قوم کی طرف سے بے شمار دعائیں بلکہ دونوں ملکوں کی طرف سے خراج تحسین. وہ کام کیا جو تاریخ میں کسی نے نہیں کیا اور شاید انے والی کئی صدیوں نہ کیا جائے پاکستان زندہ باد.