عقل مند ہیں مگر دردمند نہیں

محمدنسیم رنزوریار
قارئین کرام۔ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر گھر میں ایک آدھ نہیں بلکہ کئی کئی عقل مند پائے جاتے ہیں۔ وہ جو دنیا کو اپنی نظروں سے دیکھتے ہیں، وہ جو ہر مسئلے کا حل اپنی منطق سے پیش کرتے ہیں، وہ جو بحث میں جیتنا ہی فخر سمجھتے ہیں، وہ جو دوسروں کی کمزوریوں پر تنقید کو علم کا اظہار سمجھتے ہیں۔ مگر افسوس کہ وہ سب عقل مند ہیں، دردمند نہیں۔ آج کے دور میں کوئی یتیم بچے کو آتے جاتے دیکھ کر دل نہیں پگھلتا، کوئی بیوہ ماں کی خالی آنکھوں میں امید کا دیا روشن کرنے کی کوشش نہیں کرتا، کوئی غریب کے پھٹے کپڑوں سے اس کی حالت کا اندازہ لگا کر مدد کا ہاتھ نہیں بڑھاتا۔ آج دل کی جگہ دماغ نے لے لی ہے، اور دماغ صرف حساب کتاب جانتا ہے، جذبات نہیں۔ہماری گلیوں میں وہ عورتیں رہتی ہیں جنہوں نے جوانی میں شوہر کھوئے، مگر محلے کے دردمند دلوں نے بھی ان کی جھوٹی انا کی خاطر چپ سادھ لی۔ کوئی ان کے بچوں کی فیس نہیں دیتا، کوئی ان کے چولہے کی راکھ کو نہیں دیکھتا، کوئی ان کے تنہا دل کی دھڑکنوں کو نہیں سنتا۔ عقل مند محلے دار صرف یہ گنتے ہیں کہ فلاں کا بچہ اسکول کیوں نہیں جاتا، مگر یہ نہیں سوچتے کہ وہ بچہ ننگے پاؤں کیوں چلتا ہے، اس کے ہاتھ میں بستہ نہیں، ٹوکری کیوں ہے۔ وہ باتوں میں بڑے سچے ہیں، عمل میں خالی۔شہر ہو یا گاؤں، دفتر ہو یا مدرسہ، ہر جگہ عقل کی حکمرانی ہے، دل کہیں دفن ہو چکا ہے۔ ہم وہ قوم بن چکے ہیں جو خبروں پر تو تبصرے کرتے ہیں، مگر اپنے پڑوس کی خبر نہیں رکھتے۔ ہم وہ نسل ہیں جو فلاحی ادارے کے اشتہار پر روتے ہیں، مگر اپنے محلے کے بھوکے بچے کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ہمیں سیاستدانوں کی چالیں یاد ہیں، مگر ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ہمارے محلے کی کنواری بیٹی جہیز کے بغیر کیوں بیٹھی ہے۔ ہمارے دلوں سے وہ درد رخصت ہو چکا ہے جو کسی کے آنسو دیکھ کر خود بخود بہنے لگتا تھا۔کبھی مسجد میں صف کے برابر ایک چپ چاپ کھڑا نمازی دکھے، اس کے چہرے کی تھکن کو پڑھنے کی کوشش کرو۔ ممکن ہے وہ کسی مزدور کا بچہ ہو جس کے ہاتھوں میں چھالے ہوں اور دل میں سوال کہ اس کے خدا نے اسے یوں کیوں بنایا؟ کبھی کسی راہ چلتے بوڑھے فقیر کی آنکھوں میں جھانکو، اس کی بینائی شاید جا چکی ہو، مگر درد تمہارے دل کو روشن کر سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ اب عقل کہتی ہے کہ محتاجی خود کی غلطی ہے، درد کہتا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کی ذمہ داری ہیں، لیکن ہم نے درد کو دفنا کر عقل کو تاج پہنا دیا ہے۔ہمیں وہ دن یاد نہیں جب ہمارا دین ہمیں سکھاتا تھا کہ سب سے افضل وہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو۔ اب فائدہ ہم صرف خود کے لیے سوچتے ہیں۔ ہمارے نبی? نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چاہو جو اپنے لیے چاہتے ہو، مگر ہم نے بھائی کو ہی غیر سمجھ لیا ہے۔ غریب کی بیٹی اگر ننگے پاؤں ہے تو ہم صرف اتنا کہتے ہیں کہ وہ بھی کسی کی بیٹی ہوگی، ہماری نہیں۔ ہم بھول گئے کہ ہم سب آدم کی اولاد ہیں، ہم سب ایک جسم کی مانند ہیں۔یہ ملک، یہ شہر، یہ گاؤں تبھی خوبصورت ہوگا جب اس میں دردمند بسیں گے۔ عقل مندی ترقی دیتی ہے، مگر دردمندی انسانیت کو زندہ رکھتی ہے۔ ہم نے عمارتیں بنا 
لیں، راستے ہموار کر لیے، مگر دل کی زمین بنجر ہو چکی ہے۔ ہمیں وہ آنکھیں واپس لانی ہوں گی جو کسی بھوکے کو دیکھ کر نم ہو جائیں، وہ ہاتھ جو کسی لاچار کی پشت تھپتھپا سکیں، وہ دل جو درد محسوس کر سکے۔ کیونکہ عقل زندگی دیتی ہے، مگر درد ہی اصل انسان بناتا ہے۔ اور آج ہمیں انسانوں کی نہیں، دردمند انسانوں کی ضرورت ہے۔ایسے لوگ جو غریب کے گھر میں بھی خوشی کا دیا جلائیں، جو یتیم کے سر پر سایہ بن کر کھڑے ہوں، جو بیوہ ماں کی جھریوں میں سکون لکھ دیں۔ جو عقل سے پہلے دل کی سنتے ہوں، جو فیس بک کے تبصروں سے زیادہ کسی کے فاقے پر توجہ دیں۔ ہمیں ایسے دردمند دوست، رشتہ دار، ہمسائے، حکمران اور استاد درکار ہیں جو لفظوں سے نہیں، عمل سے انسانیت دکھائیں۔ ورنہ عقل مندوں کی بھیڑ میں انسانیت تنہا، سہم کر کسی کونے میں بیٹھ جائے گی، اور ہم صرف اتنا کہیں گے: ’’کیا کریں، زمانہ بدل گیا ہے۔‘‘یقین کرو، زمانہ نہیں بدلا، ہم بدل گئے ہیں۔ ہم نے دردمندی کو عقل کے نیچے دفن کر دیا ہے، اور اب صرف تماشائی بن کر تماشے دیکھ رہے ہیں۔ جب تک ہم خود نہ بدلیں، جب تک ہم پھر سے دردمند نہ بنیں، تب تک عقل ہماری منزل نہیں، صرف فاصلہ بڑھانے کا ذریعہ بنے گی۔ آیئے، پھر سے دل زندہ کریں، آیئے پھر سے دردمند بنیں۔