سفر ابھی جاری ہے

راحیلہ رحمن
خواب وہ نہیں ہوتے جو نیند میں دیکھے جائیں بلکہ خواب تو وہ ہوتے ہیں جنکی تکمیل کی چاہ نیندیں اڑادے ،نہ دن کا پتہ ہو نہ رات کا بس تمام تر کاوشیں نصب العین سے جڑی ہوں تو کامیابی مقدر ضرور بنتی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتے ہیں کہ حصول مقصد کے بعد کیا سفر رک جانا چاہئے ؟کیا انسان کو کامیابی کی چکاچوند میں کھوکر بے فکر ہو جانا چاہئے؟ ہرگز نہیں جس طرح کسان ہری بھری لہلہاتی بھرپور فصل کے خواب کو پورا کرنے کے لیے شب و روز آبیاری کرتا ہے انتھک محنت کے بعد جو ثمر اللہ اسے عطا کرتا ہے اس کو پا کر وہ غفلت کی نیند سو نہیں جاتا بلکہ اگلی فصل کی تیاری کرتا ہے۔ ایک طالب علم اپنی ذہانت و لگن سے خود کو ٹاپ پر پہنچانے کے بعد نیچے نہیں دیکھتا بلکہ اس معیار  کو برقرار رکھنے کے لیے مزید محنت کرتا ہے یعنی خواب تو پورا ہو جاتا ہے مگر سفر پھر بھی باقی رہتا ہے یہ ایک جملہ نہیں بلکہ فلسفہ حیات ہے جہد مسلسل ہے جینے کی وجہ ہے۔ پاکستان بھی علامہ اقبال کا ایک ایسا ہی خواب ہے جس کی تعبیر کے لیے قائد اعظم نے قوم کے ساتھ مل کر وہ جدوجہد کی جس کی  نظیر نہیں ملتی باوجود حصول مقصد کے قائد اعظم نے ایمان اتحاد تنظیم کا درس دیتے ہوئے کام کام اور کام کی نصیحت کی اس لیے کہ صرف آزاد زمین کا ٹکڑا حاصل کرنا مقصد نہیں تھا بلکہ اسے اسلامی فلاحی ریاست بنانا  مقصود تھا جہاں تمام قوانین حکم الہیہ کے تابع ہوں ، قانون کی بالادستی ہو، انصاف عام شخص کی پہنچ میں ہو،  جہاں امیر و امام  ایک ہو، جہاں انسان کی جان اور آبرو ہر طرح سے محفوظ ہو ، جہاں کوئی عورت سونا اچھالتی ہوئی جائے اور لوٹنے والا کوئی نہ ہو، جہاں عام شخص حاکم اعلی کے سامنے بلا خوف و خطر  اسکی غلطیوں پر سوال اٹھا سکے۔مکمل تعبیر تو دراصل یہ تھی اسلئے اقبال نے نوجوانوں کو شاہین کہا کیونکہ شاہین کی پرواز کبھی نہیں رکتی کبھی اس کو اپنی منزل آسمانوں میں نظر اتی ہے تو کبھی وہ پہاڑوں پر بسیرا کرتا ہے ،کبھی ستاروں پر کمند ڈالتا ہے تو کبھی پرواز کو اونچا کرنے کیلئے تندء باد مخالف کا سامنا کرتا ہے۔ مفکر پاکستان اور بانی پاکستان کا نوجوان تو تعمیر افکار اور تطہیر افکار کا علمبردار تھا نہ کہ گیجٹس کی دنیا میں گم رہنے والا آرام طلب نوجوان۔یہاں ذرا رک کر ہر پاکستانی کو خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہی ہمیں مطلوب تھا کیا  اب سفر کا اختتام ہو جانا چاہئیضمیر کی آواز آئے گی ہرگز نہیں یہ وہ خطہ نہیں جس کی آرزو ہم نے کی تھی خواب تو ایسے اسلامی فلاحی ریاست کا تھا جہاں انفرادی و اجتماعی زندگی حکم الہیہ کے تابع ہو، سود اور کرپشن سے پاک ریاست مگر افسوس ہم نے ریاست حاصل تو کرلی مگر اسے صحیح خطوط پر استوار نہ کرسکے  فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ہم اغیار کے غلام تھے اب اپنوں نے محکوم بنا رکھا ہے،  انفرادی عبادات پہلے بھی دشوار نہ تھیں آج بھی ان پر  کسی کو کوئی اعتراض نہیں پہلے انگریز براہ راست حکم چلاتے تھے اب ہماری حکومت ان سے حکم کے پروانے لے کر آتی ہے اور ہم پر فیصلے صادر کرتی ہے۔ پہلے علی الاعلان چکی میں پیسے جا رہے تھے ،اب بیک وقت کئی چکیوں میں قربانی کے نام پر  غیر محسوس طریقے سے پس رہے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ خواب تو پورا ہو گیا مگر تعبیر اب بھی باقی ہے اور اس سے مکمل کرنے کے لیے ہمارے عوام بالخصوص نسل نو کو سمجھنا ہوگا کہ ہماری بقاء￿  صرف اور صرف قران و سنت کے نفاذ میں ہے بحیثیت پاکستانی مطمئن ہوکر نہیں بیٹھنا بلکہ بحیثیت امت مسلمہ خود کو منوانا ہے کیونکہ اسلام ریاست کا نہیں امت کا تصور دیتا ہے۔ اس فرسودہ نظام سے مایوس ہو کر ہمت نہیں چھوڑنی ڈٹے رہنا ہے ہمارے پاس بے شمار وسائل ذہین نسل اور عظیم تاریخ موجود ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ 10 سالوں کے قلیل عرصے میں آدھے عرب پر مسلمانون نے کس طرح حکومت قائم کی اور اصل شریعت کا نفاز کر کے دکھایا۔ کائنات کا ہر منظر سبق دیتا ہے کہ دریا چٹانوں سے ٹکرا کر اپنا راستہ بناتا ہے سورج غروب ہو کر نئی اور چمکدار روشنی کے ساتھ طلوع ہوتا ہے  مگر شرط یہی ہے کہ ہم سب دنیا میں لہو ولعب اور بیرونی سازشوں کے چنگل سے نکل کر صبر و استقامت اور جہد مسلسل کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں تب ہی اصل اور مکمل تعبیر نصیب ہوگی  اور منزل ضرور ملے گی  بس جو ذمہ داری اللہ نے ہمارے کاندھوں پر ڈالی ہے اس کو سمجھ کر رضا ئیالہی کے لیے باطل کے خلاف کھڑے ہو جانا ہے اور ڈٹے رہنا ہے کیونکہ قران مجید میں ہے کہ"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے"۔