احمدخان اچکزئی
محترم قارئین۔ انقلاب اور سیاست کی پامال راہگزاروں پر انسانی تاریخ نے ہمیشہ ایک ایسا بھیانک تماشا دیکھا ہے جہاں خونِ عوام سے اقتدار کے ایوانوں میں چراغاں کیا جاتا ہے۔ جب ہم عالمی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ انقلابات اور سیاسی تحریکیں اکثر اوقات محض چہروں کی تبدیلی کا نام رہی ہیں، جبکہ نظام کا جبر جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔ پشتو ادبا کی فکر انگیز تحریریں اور اردو کا کلاسک ادب اس سچائی کی گواہی دیتے ہیں کہ نظریات کا لبادہ اوڑھ کر لڑی جانے والی جنگیں دراصل اشرافیہ کی مفاد پرستی کا شاخسانہ ہوتی ہیں۔ جب کوئی انقلابی گروہ سماج میں سر اٹھاتا ہے، تو اس کے پیچھے برسوں کے مظالم، ناانصافیاں اور گہرے سماجی زخم ہوتے ہیں۔ مقتدر طبقہ ہمیشہ تاریخ کو مسخ کر کے اپنے حق میں لکھواتا ہے، اسی لیے تاریخ کو جیتنے والوں کی باندی کہا گیا ہے۔ اگر کوئی باغی گروہ طاقت کے بل بوتے پر کامیاب ہو جائے، تو کل کے اشتہاری مجرم راتوں رات ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن جاتے ہیں اور انہیں ’قومی اتلان‘ یعنی قومی ہیروز کے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ لیکن المیہ یہی ختم نہیں ہوتا؛ کامیابی کی مسند پر بیٹھتے ہی یہ نئے حکمران اسی وحشت اور جبر کو دوبارہ جنم دیتے ہیں جس کے خلاف انہوں نے کبھی خونی جدوجہد کی تھی، اور عام انسان ایک بار پھر کسی نئے مسیحا کی آس میں ظلم کی چکی میں پسنے لگتا ہے۔اگر یہی انقلابی جتھا اپنے مقصد میں ناکام ہو جائے، تو تاریخ کا بے رحم قلم انہیں غدار، باغی اور فتنہ پرور لکھ کر صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال فرانسیسی انقلاب کے روحِ رواں میکسیمیلیان روبسپیئر کی ہے، جس نے دنیا کو دہشت کے دور (Reign of Terror) سے متعارف کروایا، ہزاروں سر قلم کیے، لیکن بالاخر خود بھی اسی انقلاب کی بے رحم گلوبلائین کی بھینٹ چڑھ گیا۔ دنیا کے اس خطے میں، جسے ہم تیسری دنیا کہتے ہیں، سیاست کوئی عوامی خدمت، فلسفہ یا نظریہ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسا منافع بخش کاروبار بن چکی ہے جس میں کسی مادی یا مالی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں ہوتی، مگر اس کی کوکھ سے اربوں روپے جنم لیتے ہیں۔ یہ کرہ ارض کا واحد مکروہ دھندہ ہے جہاں اخلاقیات کا جنازہ نکال کر، جھوٹ کے مینار کھڑے کر کے خاندانی سلطنتیں قائم کی جاتی ہیں۔ اس اجارہ داری کو دوام بخشنے کے لیے سیاسی شعبدہ باز اپنے نجی مسلح دستے، مافیاز اور غنڈہ عناصر پالتے ہیں جو ریاست کے اندر ایک متوازی اور طاقتور گٹھ جوڑ قائم کرتے ہیں۔ جو بھی سرکش یا باشعور شہری ان کے اس غاصبانہ نظام کو چیلنج کرنے کی جرات کرتا ہے، یہ مافیاز اسے عبرت کا نشانہ بنا دیتے ہیں، کیونکہ ان مصلحت پسندوں کے نزدیک انسانی جان کی قیمت اقتدار کے ہوس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتی۔رومن امپائر کے سیزرز کے دور سے لے کر جدید دور کی نام نہاد جمہوریتوں تک، سیاست کی یہ دکانیں کبھی بھی مقتدر حلقوں، اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ ہاتھوں کی سرپرستی کے بغیر نہیں چل سکتیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دان ظاہری طور پر ایک دوسرے کے جانی دشمن اور مدمقابل نظر آتے ہیں، میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلتے ہیں، لیکن پردے کے پیچھے یہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہوتے ہیں۔ جب بھی اس استحصالی نظام پر کوئی آنچ
آنے لگتی ہے یا عوام بیدار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، تو یہ تمام متضاد قوتیں اپنے مشترکہ طبقاتی مفادات کے تحفظ کے لیے راتوں رات ایک صف میں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ اس بھیانک اور لامتناہی کھیل کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ جمہوریت، آزادی اور انسانی حقوق کے خوشنما اور سحر انگیز نعروں کی چکی میں ہمیشہ معصوم، غریب اور بے بس عوام کا کچومر نکلتا ہے۔ عام شہری روٹی، کپڑا، مکان اور انصاف کی لائنوں میں کھڑا اپنی زندگی کی تلخیاں جھیلتا رہتا ہے، جبکہ اشرافیہ کے محلات کی رونقیں روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ یہ تماشا صدیوں سے جاری ہے اور جب تک عوام اندھی تقلید اور سستی جذباتی سیاست کے اس سحر سے باہر نہیں نکلتے، وہ اس سماجی و معاشی قفس کے ابدی قیدی بنے رہیں گے۔